جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
وہاں انہوں نے اپنے گھوڑے پر بیٹھے ہوئے کہا کہ خدا کی قسم، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کچھ لوگ آباد ہیں تو میں وہاں تک پہنچتا تا کہ کوئی بھی شخص اللہ کا پیغام پانے سے محروم نہ رہے۔ مگر آج اس گلوبلائزیشن کی بنا پر ہم دنیا کے ہر خطے کے بارے میں تفصیل کے ساتھ جان چکے ہیں۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہو ہے کہ ہم بآسانی ہر جگہ پہنچ سکیں۔ پھر اسی بنا پر یہ بھی ممکن ہوا ہے کہ جدید وسائل کو استعمال کرتے ہوئے لٹریچر اور دوسری صورتوں میں بہت کم مدت میں سچائی کا پیغام زمین کے ہر گوشہ میں پہنچایا جا سکے۔
سوال
مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی تشدد پسندی کے موضوع پر کئی کتابیں اب تک شائع ہوئی ہیں۔ آپ بھی اس موضوع پر لکھتے ہیں اور اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں۔ میں نے آپ کی تحریروں میں پایا ہے کہ آپ مسلمانوں کے اس تشدد کو غلط بتاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ درست ہے۔ کیوں کہ مسلمان اپنے جائز حق کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ رائے میں یہ اختلاف کیوں۔ (ایک قاری الرسالہ، کشمیر)
جواب
اپنے جائز حق کے لیے کوشش کرنا اور تشدد کا استعمال دونوں دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں کا حکم ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک کی حیثیت نظری اور اصولی ہے اور دوسرے کی حیثیت عملی طریق کار کی۔ اگر سوال یہ ہو کہ کسی شخص یا گروہ کو اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا درست ہے یا نہیں ، تو ہر شخص یہ کہے گا کہ جائز حق کے لیے کوشش کرنا اصولاً بالکل درست ہے۔ مگر جہاں تک تشدد کا سوال ہے، وہ عملی طریق کار سے تعلق رکھتا ہے۔ اور طریق کار کے بارے میں متفقہ طور پر یہ حکم ہے کہ پر امن طریق کار درست ہے۔ مگر پر تشدد طریق کار درست نہیں۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوا اور آدمی کو یہ اختیار ہو کہ وہ پر امن طریق کار اختیار کرے یا پر تشدد طریق کار، تو لازماً اس کو پر امن طریق کار اختیار کرنا چاہئے اور پر تشدد طریق کار کو چھوڑ دینا چاہئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues