جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
اپنے حق کے لیے پر امن طریق کار کے ذریعہ جد و جہد کرنا بالکل درست ہے مگر اپنے حق کے لیے پر تشد د طریق کار اختیار کرنا ہر گز درست نہیں۔
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ فریق ثانی جب تشدد کر رہا ہو تو ہم کیسے تشدد سے پر ہیز کر سکتے ہیں، کیا ہم یک طرفہ طور پر مار کھاتے رہیں ۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کے دعوے کے مطابق، اُن پر تشدد ہو رہا ہے وہاں مسلمانوں نے خود ہی تشدد کا آغاز کیا۔ اس کے بعد فریق ثانی نے ان کے مقابلہ میں جوابی تشدد کیا۔ میرے علم کے مطابق، ہر جگہ ایسا ہی ہوا ہے۔ مسلمان اگر اپنی جد و جہد کو پر امن طریق کار کے حدود میں رکھتے تو ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ فریق ثانی اُنہیں اپنی گولی اور اپنے بم کا نشانہ بنائے۔ اس معاملہ کے اصل ذمہ دار مسلم عوام نہیں ہیں بلکہ اُن کے خود ساختہ لیڈر ہیں جو جوش دلا کر اُنہیں تشدد پر اکساتے ہیں۔ یہ مسلم لیڈر دورِ جدید کی ایک اہم حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں۔ اُن کو یہ معلوم نہیں کہ دورِ جدید کے مانے ہوئے اصول کے مطابق، پر امن جد و جہد مکمل طور پر جائز ہے اور پر تشد د جد و جہد مکمل طور پر ناجائز۔ یہ فرق آج عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اگر اس حقیقت کو جانتے اور اُس کے مطابق، مسلمانوں کی رہنمائی کرتے تو مسلمان اُن تباہیوں سے بچ جاتے جو اس بین اقوامی اصول کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں اُنہیں پیش آرہی ہیں۔
سوال
الرساله جولائی ۲۰۰۲ کے شمارے میں آپ نے صفحہ ۳۳ پر ”بے بنیاد سوچ“ کے عنوان کے تحت ایک مکالمہ تحریر فرمایا ہے جو ایک ہندو اور مسلم کے درمیان ہے۔ ”مسلمان کا یہ کہنا کہ اسلام سچا ہے، اس لئے میں بھی سچا ہوں“۔ جہاں تک جملہ کے پہلے حصہ کا تعلق ہے وہ ایک حقیقت ہے لیکن یہ کہنا کہ اسلام سچا ہے اس لئے میں بھی سچا ہوں آج تک کسی مسلمان نے ایسا کہنے کی جرأت نہیں کی اور نہ آئندہ کرے گا۔ دین کا سچا ہونا الگ بات ہے اور دین کے ماننے والوں کا سچا ہونا قطعی الگ۔ یہ ایک سراسر الزام ہے جو آپ نے ایک مسلمان پر عائد کیا ہے، ورنہ ہر مسلمان جانتا ہے اور اس کا اعتقاد بھی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues