Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

ہے کہ اس کے کسی بھی عمل کا سچ ہونا صرف روز محشر ہی میں ثابت ہوگا۔

آپ سے گذارش ہے کہ اپنی مثال کو اور واضح کریں تا کہ جو الزام آپ نے ایک مسلمان پر لگایا ہے اس کی وضاحت ہو جائے اور تشویش دور ہو جائے۔ (محمد بشیر احمد، گلبرگہ) جواب آپ نے الرسالہ جولائی ۲۰۰۲ (صفحہ ۳۳) کے مضمون کو زیادہ غور کے ساتھ نہیں پڑھا، ورنہ یہ اشکال نہ ہوتا۔ آپ اس کو دوبارہ پڑھیں۔ اس کے بعد آپ کی غلط فہمی ختم ہو جائے گی۔ واضح ہو کہ اس مضمون میں ہند و اور مسلمان کے ”کیس‘‘ کو بتایا گیا ہے، اس میں اُن کے ’’قول‘‘ کو نہیں دہرایا گیا ہے۔ آپ یقیناً جانتے ہوں گے کہ کسی کے قول کو دہرانا ایک بات ہے اور اُس کے کیس کو بتانا اُس سے بالکل مختلف دوسری بات ہے۔ کیس اور قول کے اس فرق کو قرآن و حدیث کے مطالعہ سے بھی جانا جا سکتا ہے اور روزمرہ کے تجربہ سے بھی۔

اس غلط فہمی کی بنا پر آپ نے مذکورہ مضمون کو ’’مکالمہ‘‘ سمجھ لیا ہے اور اس کو الزام قرار دیا ہے۔ حالانکہ وہ مکالمہ نہیں ہے بلکہ وہ تجزیہ ہے۔ اگر آپ اُس کو مکالمہ کے بجائے تجزیہ سمجھتے تو آپ کو ہرگز یہ غلط فہمی نہ ہوتی۔

سوال

میں نے ایک کتاب لکھنی شروع کی ہے جس کا عنوان ہے ’’رسول اللہ ﷺ کی سنتیں، سائنسی وجوہات اور اُخروی فائدے‘‘۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو سائنسی نظریے کی روشنی میں لوگوں کے سامنے پیش کروں تا کہ کلمہ میں جو بات کہی گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے ہی میں کامیابی ہے، اور دوسروں کے طریقوں میں ناکامی ہے، لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور اس طرح میں ایک بہترین کتاب کی شکل میں اُسے لوگوں کے سامنے پیش کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ تھوڑی مدد کریں۔ بتائیں کہ اس سلسلہ میں آپ کی کون سی کتابوں کا مطالعہ کروں اور کیسے اس مشن کو آگے بڑھاؤں۔ (ایک قاری الرسالہ، ناگ پور)

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page