جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
جواب
کتاب پو چھ کر نہیں لکھی جاتی۔ کتاب خود اپنے طوفانی احساس کے تحت لکھی جاتی ہے۔ مولا نا سید سلیمان ندوی سے کسی نے پوچھا کہ میں کب لکھوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اتنا پڑھو، اتنا پڑھو کہ ابلنے لگے۔ اس کے بعد لکھو۔
اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں مصنف بننا چاہتا ہوں، اُس کی تدبیر بتائیے۔ میرا جواب ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کوئی شخص مصنف نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریر مشکل ترین آرٹ ہے۔ جو آدمی واقعی معنوں میں اس آرٹ کو جانتا ہو اُسی کو کتاب لکھنا چاہئے ۔ بقیہ لوگوں کے لیے کتاب پڑھنا ہے، نہ کہ کتاب لکھنا۔
سوال
ایک فیکٹری میں مختلف مذاہب کے لوگ کام کرتے ہیں۔ وہاں میرے ماموں زاد بھائی بھی ایک ورکر کی حیثیت سے ہیں ۔ جب میں اُن سے ملاقات کے لیے گیا تو وہاں پر موجود دوسرے لوگوں نے مجھ سے اسلام کے متعلق مختلف سوالات کیے۔ میں نے اپنے علم کے مطابق ، اُن کے سوالات کے جواب دئے۔ ان سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ مسلمان بے رحم اور خونخوار قوم ہے اس لیے کہ اُن کی مذہبی کتاب قرآن نے خون بہانے یعنی جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کا حکم دیا ہے جو کہ غلط ہے۔ مزید یہ انسانیت کے خلاف ہے اور بے رحمی کا ثبوت بھی۔ میں نے حتی الامکان اُن کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کی مگر انہیں تسلی نہ ہوسکی ۔ آپ اس سوال کا فکری جواب وضاحت کے ساتھ لکھیں ۔ ( جاوید انجم سہراب علی ، نئی دہلی )
جواب
جانور کو ذبح کرنا صرف مسلمان کا اصول نہیں، وہ فطرت کا عام اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی بھی شخص، حتیٰ کہ سوال کرنے والے لوگ بھی اس سے بری نہیں ۔ دنیا میں بسنے والے انسانوں میں، بشمول ہندوستان، بیشتر لوگ حیوانی غذا کو استعمال کرتے ہیں ۔ جو لوگ بظاہر حیوانی غذا نہیں لیتے وہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues