Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

بھی بالواسطہ طور پر ایسا ہی کرتے ہیں۔ پانی، دودھ، سبزی، پھل یا کوئی بھی چیز جس کو انسان کھاتا ہے اُن سب میں خوردبینی زندگیاں ہوتی ہیں۔ ان زندگیوں کو قتل یا ذبح کیے بغیر کوئی شخص و تحجییر ین غذا بھی نہیں لے سکتا۔ جس کو اس معاملہ میں شبہ ہو اُس سے کہیے کہ وہ دودھ کو خورد بین کے شیشے کے نیچے رکھ کر دیکھ لے۔

اصل یہ ہے کہ ذبح حیوان ہمارے لیے انتخاب (choice) کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے لیے مقدر (destiny) کا معاملہ ہے۔ موجودہ دنیا میں اس کے بغیر زندگی کا کوئی امکان ہی نہیں۔ موجودہ دنیا میں اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں ذبح حیوان کے بغیر جینا چاہے تو اُس کو خود اپنے آپ کو ذبح کرنا پڑے گا۔ کیوں کہ ایسے کسی انسان کے لیے یہاں صرف خودکشی کا امکان ہے، اُس کے لیے زندگی کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔

سوال

میں انگریزی زبان میں کمزور ہوں۔ فکر و نظر کو تقویت بخشنے میں عربی کے ساتھ انگریزی کا کردار آپ خود اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے انگریزی زبان جس اُصول و طریقہ کے مطابق سیکھی ہے اس سلسلہ میں کوئی نمونہ لکھ بھیجیں تاکہ میں اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو سکوں۔ (رضوان اللہ الریاضی، ریاض)

جواب

کسی کا قول ہے کہ پڑھنے سے پڑھنا آتا ہے اور لکھنے سے لکھنا آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی زبان کو سیکھنا چاہتا ہے تو اُس کو چاہئے کہ وہ اُس کو فوراً شروع کر دے۔ اور اُس کو مسلسل جاری رکھے۔ اس معاملہ میں آدمی کا شوق اور اُس کی محنت ہی اس کے سب سے بڑے معلم ہیں۔ میں نے افریقہ میں ایک تاجر کو دیکھا کہ وہ مسلسل انگریزی بولنے کی کوشش کرتا تھا۔ اگر چہ اُس کی زبان میں گرامر کے لحاظ سے بہت سی غلطیاں ہوتی تھیں۔ کسی نے اُس سے کہا کہ جب تم انگریزی نہیں جانتے تو تم انگریزی کیوں بولتے ہو۔ اُس نے جواب دیا کہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page