Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

غلط انگریزی بولتا ہوں تا کہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آ جائے :

I speak incorrect English, so that I may be able to speak correct English. سوال آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ مسلمان ۲۰۰ سال سے ملٹنسی (militancy) کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے ایسا لکھا ہے۔ اور اگر لکھا ہے تو کس دلیل کی بنیاد پر لکھا ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری الرسالہ۔ ابو ظہبی)

جواب

ایسا میں نے کبھی نہیں لکھا۔ یہ بلاشبہ ایک لغو بات ہے۔ البتہ میں نے ایک اور بات لکھی ہے اور کچھ غیر ذمہ دار لوگ اس کو بگاڑ کر میرے خلاف اس قسم کا پروپیگنڈاکر رہے ہیں۔ جو لوگ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق بن رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ : يحرفون الكلم عن مواضعه (المائدہ ۱۳)

میں نے جو بات لکھی ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر مسلم مقررین اور محررین دور جدید میں اسلامی جد جہد کا آغاز ۱۷۹۹ سے کرتے ہیں جب کہ میسور کے سلطان ٹیپو انگریزی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اگر ۱۷۹۹ کو آغاز مانا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسلمان ۲۰۰ سال سے اپنے مسائل کے حل کے لئے مسلح جد و جہد کر رہے ہیں۔ مسلح جد و جہد ابھی تک مختلف مقامات پر جاری ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ۲۰۰ سال کی اس مسلح جد و جہد کا کوئی بھی مثبت نتیجہ اسلام کے لئے یا مسلمانوں کے لئے نہیں نکلا۔ اب بھی مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے شکایت اور احتجاج کی زبان بول رہے ہیں۔ اس طرح یہ تمام لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ لمبی مدت تک اس مسلح جد و جہد کا مطلوب نتیجہ نہیں نکلا۔

اب میں کہتا ہوں کہ عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ مسلمانوں کے اندر اپنے طریق کار کے بارے میں نظر ثانی (revision) کا عمل کیا جائے ۔ ہندوستان میں ۱۸۵۷ میں آزادی کی تحریک مسلح

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page