Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

انداز میں شروع کی گئی۔ جب وہ بے فائدہ ثابت ہوئی تو 1919ء میں اس طریقِ کار کو بدل کر آزادی کی تحریک کو پرامن طریقِ کار کے اصول پر چلایا گیا۔

خود اسلام کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار صحابہ کے ساتھ 8 ہجری میں طائف کی طرف اقدام فرمایا۔ وہاں پہنچ کر محسوس ہوا کہ بروقت حالات موافق نہیں ہیں۔ چنانچہ آپ نے طائف کا محاصرہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف واپسی کا فیصلہ فرمایا۔ اسی طرح غزوۂ موتہ کے موقع پر ابتدائی جنگ کے بعد اندازہ ہوا کہ جنگ کو جاری رکھنا اہل اسلام کے حق میں نہیں ہے تو حضرت خالد درمیان ہی میں واپس ہو کر مدینہ آگئے، وغیرہ۔

میں اسی نظر ثانی (revision) کی بات کرتا ہوں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ 200 سال کی مسلح جدوجہد نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلح طریقِ کار موجودہ حالات میں ہمارے لئے کارآمد نہیں ہے۔ اس لئے اب مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مسلح طریقِ کار کو مکمل طور پر چھوڑ دیں اور پر امن طریقِ کار کا تجربہ کریں۔ پرامن طریقِ کار سے مراد ہے مسلمانوں کی داخلی اصلاح، مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنانا، مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا، مسلمانوں کو جدید اقتصادیات میں آگے بڑھانا، جدید وسائل کی مدد سے دعوت و تبلیغ کا کام کرنا، مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنا، وغیرہ۔ سوال آپ کے تعمیری انداز اور پلس طریقِ تعلقات اور دنیاوی اور دینی انداز عمل سے غیر متفق ہونے کا سوال ہی نہیں۔ لیکن ہم تجربہ حاصل کر رہے ہیں کہ پریکٹیکل لائف میں خیالات کی صحت مندی کام دینے سے قاصر ہے۔ لوگ، بالخصوص دیگر اور الگ الگ مذاہب کے لوگ اب بالکل ہی بے حس ہو گئے ہیں، وہ دوسروں کی پرابلم کو یا اوروں کی مصیبتوں کو سمجھنے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔ انجام کیا ہوگا (عدنان کریمی، حیدر آباد)

جواب

موجودہ زمانہ کے مسلمان اور اُن کے رہنما ایک تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ نماز روزہ کے مسائل اور

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page