جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
حج کے آداب جیسے معاملات میں تو اسلام سے رہنمائی لینے کے لیے تیار ہیں۔ مگر جہاں تک اُن کے اور قومی مسائل کی بات ہے تو وہ ان معاملات میں اپنی خواہشوں پر چلنا چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک اس تضاد کی موجودگی میں ان کے مسائل کا کوئی حل نہیں۔ جب تک وہ اس تضاد سے باہر نہ آئیں ، اُن کا کوئی بھی دنیوی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
اس سے بھی زیادہ غیر اسلامی بات یہ ہے کہ الرسالہ میں جس ایڈجسٹمنٹ کی بات کہی جاتی ہے، ہر مسلمان، عوام اور خواص دونوں اپنے ذاتی معاملات میں عین اسی ایڈجسٹمنٹ کے فارمولا پر عمل کرتے ہیں۔ جہاں اُن کے ذاتی انٹرسٹ کا مسئلہ ہو وہاں وہ فورا ایڈجسٹمنٹ کے اصول کو اختیار کر لیتے ہیں۔ البتہ جب انہیں ملی مسائل پر بولنا اور لکھنا ہو تو وہ ایڈجسٹمنٹ کو بزدلی کہہ کر اُسے رد کر دیتے ہیں۔ انفرادی اور قومی زندگی کا یہ تضاد بلا شبہ ایک جرم ہے۔ اس جرم کی موجودگی میں یہ امر بھی سخت مشتبہ ہے کہ دینی مسائل کے معاملہ میں اُن کی مذکورہ روش اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ قبول قرار پائے۔ آپ نے یہ شکایت کی ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ مسلمانوں کے مسائل کے حل میں اُن کی مدد نہیں کرتے۔ یہ ایک غیر ضروری شکایت ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوتا، حتی کہ رشتہ داروں کے درمیان بھی نہیں۔ مسلمانوں کو یا تو اپنا مسئلہ خود حل کرنا ہو گا یا اُن کے مسائل ہمیشہ غیر حل شدہ حالت میں پڑے رہیں گے۔
سوال
سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں ذہین لوگوں کے لئے گنجائش نہیں ہے ۔ یہ سوال اس لئے ذہن میں پیدا ہوا کہ میں دیکھتا ہوں کہ ماضی میں اور حال میں بھی ذہین یا منطقی لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا گیا۔ مثلاً ماضی میں سید شہاب سہروردی کو قتل کر دیا گیا جب کہ وہ ابھی صرف ۳۷ سال کے تھے، مگر بہت ذہین انسان تھے۔ ابنِ رُشد کو جیل میں ڈالا گیا۔ رازی، فارابی اور بوعلی سینا پر کفر کا فتوٰی لگا کر اُن کو ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہمارے یہاں سرسید احمد خاں کی تکفیر کی گئی اور انہیں ذلیل کیا گیا۔ ڈاکٹر اقبال پر بھی کفر کا الزام لگایا گیا۔ بوعلی سینا نے بھی اپنے ایک فارسی قطعہ میں کہا ہے کہ یہاں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues