Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

اگر رہنا ہے تو گدھا بن کر رہو اگر عقلمند بنو گے تو پھر خیر نہیں۔

کیا اسلام میں ایسے ہی لوگوں کی گنجائش ہے جو منطقی نہ ہوں، استدلالی نہ ہوں، اپنی عقل و فہم کی روشنی میں حیات وکائنات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرتے ہوں۔ (احساس آفاقی، کُرلا، ممبئی) جواب آپ نے چند مثالوں کو لے کر اُن کو جنرلائز کر دیا ہے۔ حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام میں فکری آزادی کو بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ اس معاملہ کی تفصیل کے لیے آپ میری کتاب دین انسانیت کا باب ’’حریت فکر‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ انشاء اللہ آپ کی غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ قرآن میں بار بار اہل عقل کو خطاب کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ خود قرآن کے نزول کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ عقل والے اس پر غور کریں (ص ۲۹)۔ چنانچہ ہر دور میں عقلی غور و فکر کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ آپ نہج البلاغہ کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ حضرت علی کتنا زیادہ عقلی غور و فکر کو پسند کرتے تھے۔ عباسی خلافت اور اسپین کی اموی خلافت کے دور میں عقلی غور و فکر کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی جس کی تفصیل آپ فلپ ہٹی کی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں دیکھ سکتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں فخر الدین رازی کی ضخیم تفسیر اور موجودہ زمانہ میں جو ہری طنطاوی کی مفصل تفسیر قرآن کی عقلی تشریح کی مثالیں ہیں۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ خاص اسی مقصد کے لیے لکھی۔ خود راقم الحروف نے تقریباً چالیس سال سے اسلام کی عقلی اور سائنسی تشریح کو اپنا موضوع بنایا ہے اور اس پر سو سے زیادہ کتابیں شائع کی ہیں مگر ساری مسلم دنیا میں کسی بھی شخص نے اس پہلو سے میری مخالفت نہیں کی۔ تاہم بعد کے زمانہ میں ایک غلط مسئلہ مسلمانوں میں پھیل گیا۔ اور وہ یہ کہ جو شخص رسول کی اہانت کرے یا اسلام کی اہانت کرے اُس کو قتل کر دیا جائے ۔ اس مسئلہ کی بنا پر کچھ لوگوں کا قتل بھی ہوا۔ مگر یہ مسئلہ بذاتِ خود غلط ہے۔ اس کی کوئی اصل قرآن یا حدیث میں نہیں۔ اس مسئلہ کی ذمہ داری بعد کے دور کے کچھ مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ خود اسلام پر۔ اس معاملہ میں شرعی حکم کو سمجھنے کے لیے آپ راقم الحروف کی کتاب ’’شتم رسول کا مسئلہ‘‘ مطالعہ فرمائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page