جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
سوال
آج ایک ایسے قائد کی اشد ضرورت ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کر سکے۔ آپ کی کئی کتابیں اور الرساله کا مسلسل مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیادت کے لائق صرف آپ کی شخصیت ہی ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی احسن طور پر رہنمائی کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ علماء کرام اور دانشوروں کا طبقہ ’’بغیاًبینہم کے مرض سے دور ہو جائیں (نثار احمد خاں سلفی، امام و خطیب مسجد اہل حدیث، مومن پورہ، ناگپور)
جواب
قیادت کا مسئلہ نامزدگی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ قبولیت کا مسئلہ ہے۔ کوئی شخص قائد اُس وقت بنتا ہے جب کہ لوگوں کی اکثریت اٌس کو اپنے قائد کے طور پر قبول کرلے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ابوالکلام آزاد اور محمد علی جناح دونوں ایک ہی زمانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں نے مسلمانوں کے اندر کام کیا اور اٌن کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر محمد علی جناح مسلمانوں کے قائد بن گئے، لیکن ابوالکلام آزاد عملاً مسلمانوں کے قائد نہ بن سکے۔ اس کا سبب سادہ طور پر صرف یہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر محمد علی جناح کو قبول کر لیا اور ابوالکلام آزاد کو قبول کرنے کے لیے وہ تیار نہ ہو سکے۔ یہی معاملہ ساری مسلم دنیا کا ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ شعوری اعتبار سے ایک کھچڑی ہوئی قوم بن گئے ہیں۔ اٌن میں جب تک شعوری بیداری نہ لائی جائے، کسی صالح قیادت کا اٌن کے اندر ابھرنا ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues