Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

ایک خط برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲۳ ستمبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے حکم کے باوجود ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ ابلیس نے یہ بتائی کہ: أنا خير منه (الأعراف ۱۲)۔ قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو أنا خير منه کی نفسیات میں جیتے ہوں، اور دوسرے وہ جو الحق خير منی کی نفسیات میں جئیں ۔ مزید غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہدایت اور گمراہی کے معاملہ میں یہ تقسیم بے حد اہم ہے۔ قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت ایک ارتقاء پذیر عمل ہے۔ اُس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے (الکہف ۱۳)۔ اس قانون الہی کا نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ الحق خير منی کی نفسیات میں جئیں اُن کی ہدایت میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے اور جو لوگ أنا خير منه کی نفسیات میں جئیں اُن کے لیے ہدایت کا دروازہ بند ہو جائے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی بھی انسان سب کچھ لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ سیکھنے کے عمل کے ذریعہ اٗس کو بار بار اپنے علم میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے حضرت عمر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: کان يتعلم من کل احد (وہ ہر ایک سے علم سیکھتے تھے)۔ یعنی اُن کا تجسس اتنا بڑھا ہوا تھا کہ جب بھی کسی کی طرف سے کوئی قابل اخذ چیز سامنے آتی تو وہ بلا تاخیر اُس کو لے لیتے تھے۔ بمبئی کے حالیہ سفر میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کی ڈائری شوق سے پڑھتا ہوں اور بار بار پڑھتا ہوں۔ اس میں طرح طرح کی معلومات ملتی ہیں۔ مگر میں آپ کی کتابیں نہیں پڑھتا۔ میں نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ کتاب کو پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک بولے اور دوسرا سنے۔ کتاب کا مطالعہ یک طرفہ عمل ہے، وہ دو طرفہ عمل نہیں۔ میں نے کہا کہ مطالعہ کتاب کا یہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page