Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

(intellectual sharing) مطلب ہرگز نہیں۔ مطالعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک فکری حصہ داری ہے۔ یہ مکمل طور پر ایک دوطرفہ عمل ہے۔ البتہ صاحبِ مطالعہ ذہنی بیداری کے جس درجہ پر ہوگا اُسی کے بقدر وہ مطالعہ کے عمل میں حصہ دار بن سکے گا۔

میں اپنی ساری زندگی میں کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ مگر میرا مطالعہ ہمیشہ دوطرفہ عمل تھا، نہ کہ یک طرفہ عمل۔ مثلاً میں نے انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتابیں پڑھیں ۔ یہ کتابیں مصنف نے تشکیک اور الحاد پر لکھی تھیں۔ مگر دوطرفہ ذہنی عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ برٹرینڈ رسل کی کتابوں میں برعکس طور پر ایک نہایت اہم چیز دریافت ہوئی۔ اور وہ ہے اسلامی عقائد پر استدلال کا سائنسی انداز۔ اس معاملہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو میری کتاب: مذہب اور سائنس۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک باشعور انسان کے لیے اُس کی پوری زندگی ایک تعلّمی عمل (learning process) ہے۔ ایسا آدمی اپنے مشاہدہ اور تجربہ اور مطالعہ کے دوران ہر چیز سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔ وہ ہر چیز سے کچھ نہ کچھ لیتا ہے۔ ہر چیز اُس کے لیے اُس کی معرفت میں اضافہ کا سبب بنتی رہتی ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ: الحكمة ضالة المومن حيث وجدها فهو احق بھا ۔ (حکمت مومن کا کھویا ہوا سرمایہ ہے، وہ جہاں اُس کو پائے تو وہی اُس کا زیادہ حق دار ہے۔ ) تعلّم (learning) کے اس عمل کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ اوّل یہ کہ آدمی کے اندر روح تجسس (spirit of inquiry) اتنی زیادہ پائی جائے کہ وہ کبھی اور کسی حال میں اُس سے سیر نہ ہو سکے۔

اس معاملہ میں دوسری لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی عُجب اور خود پسندی کی نفسیات سے مکمل طور پر پاک ہو۔ جب بھی کوئی اچھی بات اُس کے سامنے آئے تو وہ اُس کو کسی تر دّد کے بغیر فوراً اخذ کرلے۔ وہ قرآن کے الفاظ میں، اخذته العزة بالاثم (البقرہ ۲۰۶) کا مصداق نہ بنے۔

عام طور پر لوگوں کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ کوئی حقیقت اگر انسان کے سوا کسی اور ذریعہ سے آئے تو وہ اُس کو مان لیتے ہیں، اُس کو ماننے میں کوئی چیز اُن کے لیے رُکا وَٹ نہیں بنتی۔ لیکن جب اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page