جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
جیسے ایک انسان کے ذریعہ کوئی ایسی حقیقت اُن کے سامنے آئے جس کو وہ پہلے سے نہ جانتے ہوں تو اُس کو ماننا اُن کے لیے سخت دشوار ہو جاتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس نفسیات کا شکار ہو جاتے بیس کہ اگر میں نے اس کی بات مان لی تو میرا قد اُس کے مقابلہ میں چھوٹا ہو جائے گا۔ یہ نفسیات اُن کے لیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتی ہے، خواہ اس حق کو کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ اُن کے سامنے بیان کیا گیا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اعتراف علم کا دروازہ ہے۔ اعتراف آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اُس کے اخذ کا عمل کبھی نہ رُکے۔ اُس کا ذہنی ارتقاء کسی روک کے بغیر مسلسل جاری رہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میری ملاقات کسی ایسے شخص سے ہوتی ہے جس کو میں بیس سال یا چالیس سال پہلے جانتا تھا۔ اب لمبے وقفہ کے بعد اُس سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ہمیشہ پایا کہ وہ آدمی آج بھی وہیں ہے جہاں وہ پہلے تھا۔ ان میں سے اکثر اس مدت میں مادی اعتبار سے کافی ترقی کر چکے ہوتے ہیں مگر فکری اعتبار سے وہ اب بھی وہیں ہوتے ہیں جہاں وہ ہیں سال یا چالیس سال پہلے تھے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مادی کمائی کے میدان میں تو انہوں نے اپنے ذہن کو خوب لگایا مگر فکری ترقی کے میدان میں وہ اپنے ذہن کو استعمال کرنے سے عاجز رہے۔
قرآن میں پیغمبر کے چار خاص کام بتائے گئے ہیں— تلاوت آیات، تعلیم کتاب، تعلیم حکمت اور تزکیہ (البقرہ ۱۲۹) تلاوت آیات کا مطلب ہے، نازل شدہ قرآن کو لوگوں تک پہنچانا۔ تعلیم کتاب سے مراد تفصیلی قوانین کی تعلیم ہے۔ تعلیم حکمت سے مراد ہے، قرآن کی تعلیمات میں چھپی ہوئی وزڈم (wisdom) کو کھولنا۔
تزکیہ کو عام طور پر پر اسرار معنوں میں لیا جاتا ہے اور اُس کو تطہیر نفوس سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مگر اس تشریح سے تزکیہ کی پوری معنویت واضح نہیں ہوتی۔ میرے نزدیک تزکیہ سے وہی چیز مراد ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ذہنی ارتقاء کہا جاتا ہے۔ پیغمبر کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ وہ ہر فرد کے ذہن کو بیدار کرے۔ وہ لوگوں کے اندر معرفت کا عمل جاری کرے۔ وہ لوگوں کو اس قابل بنائے کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues