وحید الدین
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۲
اپنی فکری قوتوں کو بیدار کر کے اپنی شخصیت کو ارتقاء یافتہ شخصیت بنائیں۔
ایک بیدار ذہن یہ کرتا ہے کہ مطالعہ اور مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ جو چیزیں اُس کے سامنے آتی ہیں اُن کو وہ تدبر اور توسّم کے ذریعہ معرفت حق میں ڈھالتا رہتا ہے۔ یہی تزکیہ نفس ہے اور پیغمبر کی سنت کے مطابق ، علماء کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود اس معرفت کے حامل بنیں اور دوسروں کو اسی مفہوم میں صاحب معرفت بننے کی مدد کریں۔
تزکیہ نفس کا کوئی تعلق صوفیا کی ”روحانی‘‘ مشقوں سے نہیں ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد تزکیہ فکر ہے۔ یعنی آدمی کے ذہن کو کنفیوژن سے نکال کر اُس کے اندر سد اد فکر پیدا کرنا۔ تحلیل و تجزیہ کی صلاحیت پیدا کر کے اُس کو اس قابل بنانا کہ وہ معاملات میں صحیح رائے تک پہنچ سکے۔ اُس کے ذہن کو اس طرح کھولنا کہ وہ اعلی حقائق کی گرفت کے قابل ہو جائے۔ اُس کے اندر اشیاء کی وہ معرفت پیدا کرنا کہ وہ حق کو ہر صورت میں اور ہر حال میں پہچان لے۔ اُس کے اندر وہ بلند فکری پیدا کرنا جو ہر بھٹکاؤ سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔
آخر میں عرض ہے کہ علم یا معرفت کی ترقی کے لیے سب سے زیادہ ضروری شرط تواضع (modesty) ہے۔ کسی آدمی کے اندر ساری صلاحیت ہو مگر اُس کے اندر سچی تواضع نہ ہو تو وہ کبھی علم و معرفت کا اعلی درجہ نہیں پاسکتا۔ علم صرف اُس سینہ کے اندر جگہ پاتا ہے جو کبر اور انانیت اور خود پسندی جیسے جذبات سے پاک ہو۔ حقیقی علم دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے۔ خدا کی معرفت کسی کو تواضع کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح کسی شخص کو علم صرف اُس وقت ملتا ہے جب کہ وہ اپنے اندر حقیقی معنوں میں تواضع پیدا کر چکا ہو۔ کبر اور علم دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔
وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues