Al-Risala · February 2002 · page 11

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۱

قصور وار کون

ایک شخص نے سانڈ کو چھیڑا۔ اس کے بعد سانڈ نے اس کو اپنی سینگ سے مارا۔ ایسی حالت میں صرف یہ نہیں کہا جائے گا کہ سانڈ نے آدمی کو مارا۔ بلکہ یہ کہا جائے گا کہ سانڈ نے آدمی کو مارا اور آدمی نے اپنے آپ کو سانڈ سے مروایا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے: الترمذی، ابن ماجہ اور البیہقی نے حضرت حذیفہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه، قالوا و كيف يذل نفسه، قال: يتعرض من البلاء لما لا يطيق (مشكوة المصابيح، جلد ۲، صفحه ۷۲۷) یعنی کسی مومن کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ لوگوں نے کہا کہ کوئی شخص کیسے اپنے آپ کو ذلیل کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسی مصیبت مول لے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔

یہ حدیث افراد کے لئے بھی ہے اور قوموں کے لئے بھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی فرد یا قوم کسی بڑی طاقت کو چھیڑے یا اس کو غصہ دلائے اور اس کے بعد یہ طاقت اس کو کچل ڈالے تو اس فرد یا قوم کے لئے یہ مظلومیت کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ وہ حماقت کا معاملہ ہوگا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی خود سے ایک مصیبت میں پڑتا ہے اور پھر وہ کسی دوسرے کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ مگر ایسا کرنا درست نہیں۔ جو مصیبت اپنی نادانی کی بنا پر پیش آئے اس کے لئے آپ دوسرے کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ جس تباہی کا سبب خود اپنا غلط اقدام ہو، اس کا قصور وار دوسرے کو ٹھہرانا ایک ایسی کوشش ہے جو شریعت کے نزدیک بھی قابل رد ہے اور عقل کے نزدیک بھی قابل رد۔ فطرت کا یہی وہ اصول ہے جس کو ایک عوامی مثل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے "آ بیل مجھے مار۔ موجودہ دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بیل بھی ہے اور انسان بھی۔ ہم تخلیق کے اس نقشہ کو بدل نہیں سکتے۔ ہمارے لئے ممکن صورت صرف یہ ہے کہ ہم پھول کی طرح کانٹے کے ساتھ زندگی گزارنے کا ہنر سیکھ لیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page