Al-Risala · February 2002 · page 12

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۲

سوال

قرآن کریم کو جناب نے کتاب الصبر فرمایا ہے۔ یہ قول ان کے مقابلے میں نہایت وزنی ہے جو اس کو کتاب الجہاد سمجھتے اور اسی انداز میں اس کو متعارف کراتے ہیں۔ جہاں تک حقیقت واقعہ کا تعلق ہے تو میرے نزدیک کتاب الجہاد کہنا اگر افراط ہے تو کتاب الصبر قرار دینا تفریط۔ قرآن کے لئے اگر ہمیں اس طرح کی کسی وضاحت کی واقعی ضرورت ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اسے کتاب الاعتدال کہنا چاہئے اور اس کے نتیجہ میں جو مذہب وجود میں آتا ہے اسے مذہب اعتدال سے متعارف کرایا جا سکتا ہے (محمد عمران مظاہری، مدرسہ حسینیہ، اغوان پور، میرٹھ)

جواب

آپ نے صبر کو بہت محدود معنی میں لیا ہے اس لئے آپ نے ایسا فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد خود صبر ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اہل ایمان کو سو میں ننانوے بار صبر کرنا پڑتا ہے اس کے بعد جہاد کا موقع آتا ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں ایمان کے تقاضوں پر زندگی گزارنے کے لئے صبر لازمی شرط ہے۔ مثلاً اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے بھی صبر درکار ہے۔ کیوں کہ اگر آپ کھوئے ہوئے پر صبر نہ کریں تو ملے ہوئے پر حقیقی جذبہ شکر کا اظہار آپ کی زبان سے نہیں ہو سکتا۔ دعوت کے لئے صبر لازمی شرط ہے۔ کیوں کہ مدعو کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کئے بغیر آپ سچے داعی نہیں بن سکتے۔ نماز بھی آپ خشوع کے ساتھ صرف اس وقت پڑھ سکتے ہیں جب کہ آپ دنیوی تقاضوں پر صبر کر کے اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے ہوں۔ انفاق بھی آپ اسی وقت کر سکتے ہیں جب کہ آپ مال کی محبت کے جذبات پر صبر کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اسی طرح حج مبرور بھی اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب کہ سفر حج کے دوران پیش آنے والے مکارہ پر صبر کیا جائے۔ اسی طرح اسلامی اخلاق کے اصولوں پر عمل اسی وقت ممکن ہے جب کہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں پر صبر کیا جائے۔

یہی معاملہ خود جہاد کا ہے۔ جہاد کا آغاز دوسروں کے خلاف قتال سے نہیں ہوتا بلکہ خود اپنے نفس پر کنٹرول کرنے سے ہوتا ہے۔ مومن دوسروں کی قابل شکایت باتوں پر صبر کرتے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page