Al-Risala · February 2002 · page 13

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۳

ہوئے اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرتا ہے۔ مومن دوسروں کی زیادتیوں پر صبر کرتے ہوئے اس کو دعوت کا مخاطب بناتا ہے۔ مومن دوسروں کے جارحانہ عزائم کو یک طرفہ اعراض کے ذریعہ بے اثر بناتا رہتا ہے۔ اور اگر بالفرض جنگ کی نوبت آجائے تب بھی مومن یہ کرتا ہے کہ وہ صرف حملہ آوروں پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو پھر بھی مومن اپنی زد سے محفوظ رکھتا ہے۔ مومن اپنے منفی جذبات کو یکطرفہ طور پر دبا کر غیر حملہ آور کو نقصان پہنچانے سے بچتا ہے۔ صبر کی ان تمام کارروائیوں کے باوجود جو جہاد کیا جائے وہی دراصل اسلامی جہاد ہے۔ جہاد خود ایک صابرانہ عمل ہے، نہ کہ غیر صابرانہ عمل۔ جہاد بمعنی قتال ایک استثنائی حکم ہے اور صبر ایک عمومی حکم۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کا عنوان بحث عموم کے اعتبار سے متعین کیا جائے گا، نہ کہ استثناء کے اعتبار سے۔

سوال

الرساله جولائی ۲۰۰۱ء کے صفحہ ۳۳ تا ۳۵ میں آپ نے اکبر کی خود ساختہ پالیسی کو تالیف قلب کی گہری پالیسی قرار دیا ہے۔ اور اس کی یہ وجہ بتائی ہے کہ اکبر نے اسے اسلام کی اشاعت میں برہمنوں کے ذریعہ پیدا کی گئی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اختیار کیا تھا۔ لیکن اس متنازع فیہ واقعہ کو آپ نے قرآن وسنت سے مدلل کرنے کے بجائے محض مولاناسید حسین احمد مدنی کی "مجتہدانہ نظر" سے مدلل کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ ہمارے نزدیک اکبر کا یہ اقدام اپنے سیاسی انٹرسٹ کی خاطر تھا، نہ کہ اسلام کی خاطر۔ آپ کی اس بحث سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اگر مسلمان (یا کوئی مسلم حکومت) خالص مصلحتاً ہندوؤں یا غیروں کی چند بے ضرر رسومات کو اپنے یہاں رائج کر لیں تو یہ عین دین کی خدمت ہوگی۔ بالفاظ دیگر غیروں کی طرح مخصوص وضع قطع اختیار کرنا، دیوالی میں قندیلیں جلانا، ہولی میں رنگوں سے کھیلنا، کسی اچھے کام کا آغاز ناریل توڑ کر کرنا، وغیرہ جیسی بے ضرر رسمیں ، نہ صرف مسلمانوں کے لئے وقتی طور پر جائز ہو جاتی ہیں بلکہ وہ ضروری ہو جاتی ہیں۔ (محمد اقبال انجینئر، ایم اے صدیقی، فاروق فیصل، محمد رفیع چوگلے، ممبئی)

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page