Al-Risala · February 2002 · page 14

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۴

جواب

تالیف قلب دعوت اسلامی کا ایک مستقل اصول ہے۔ یعنی محدود دائرے میں مدعو کی وقتی رعایت کرنا جس سے وہ اسلام کی طرف مائل ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں اس کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً ہجرت کے بعد آپ نے ۱۶۔ ۱۷ مہینے تک یہودیوں کے قبلہ کو اپنا قبلہ عبادت بنائے رکھا۔ اس کا سبب یہی تالیف قلب کا حکم تھا (تفسیر القرطبی ۲ صفحہ ۱۵۰) اکبر کا مذکورہ عمل اسی تالیف قلب کی بنا پر تھا۔ نیز یہ کہ اس معاملہ میں اکبر تنہا نہیں۔ ہندوستان کے صوفیاء نے اسی تالیف قلب کے اصول کے تحت کئی طریقے اپنی خانقاہوں میں رائج کئے ۔ جس کا فائدہ یہ ہوا کہ ملک کے لاکھوں باشندوں نے اسلام قبول کر لیا۔

اکبر نے جو طریقہ اختیار کیا، اگر بالفرض اس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کی توسیع و اشاعت سے اس کی سلطنت کو استحکام حاصل ہوگا، تب بھی اس کا فعل قابل ملامت نہیں۔ اگر بالفرض ایسا ہو تو ہم صرف یہ کریں گے کہ اکبر کے فعل کو اس حدیث رسول کا مصداق قرار دیں گے : ان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر۔

الرسالہ کے مذکورہ شمارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ مسلمان ہندوؤں کے رسوم کو اپنی زندگی میں اختیار کر لیں۔ یہ مکمل طور پر ایک دعوتی بات ہے۔ اس کا تعلق صرف دعوتی مصالح سے ہے۔ کلچرل سمجھوتہ کا میں ہرگز مبلغ نہیں ہوں۔ میں صرف دعوتی مقصد کے لئے تالیف قلب کی بات کرتا ہوں۔ تالیف قلب بلاشبہ اسلام کا ایک مسلم اصول ہے۔ ہندوستان کے صوفیاء نے اس کو بڑے پیمانہ پر اختیار کیا۔ صوفیاء کی دعوتی کامیابی کا خاص سبب ان کی یہی پالیسی تھی۔ سوال میں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے۔ کشمیر میں میں نے ایک سرکاری سروس کے لئے درخواست دی تھی۔ میں اس کے لئے کوالیفائڈ تھا مگر مجھ کو نہیں لیا گیا۔ اب یہاں کے لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ جب تک کشمیر کے سیاسی حالات نہیں بدلیں گے ہمارے ساتھ نا انصافی ہوتی رہے گی۔ ہم کو لڑ کر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page