قصور وار کون
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۰
اصل یہ ہے کہ اللہ کا بھیجا ہوا ہر دین فطرت کے مطابق ہی تھا مگر بعد کی تحریفات نے اس کو بدل دیا۔ اسلام اور دوسرے آسمانی مذاہب میں جو فرق ہے وہ افضل اور غیر افضل کا نہیں ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ پچھلے آسمانی مذاہب تبدیلیوں کی بنا پر غیر مستند ہو گئے۔ جب کہ اسلام آج بھی اپنی ابتدائی حالت پر باقی ہے۔ مجرم کو شرعی سزا دینا عوام کا کام نہیں۔ یہ ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے جو حالات پر کنٹرول رکھتی ہو۔ عوام کے لئے پر امن تبلیغ واصلاح ہے، نہ کہ شرعی قوانین کو طاقت کے ذریعہ نافذ کرنا۔ سوال موجودہ زمانہ میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ ٹینشن (ذہنی تناؤ) میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس مسئلہ کو لے کر لوگ نفسیاتی ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حال میں مجھے ایک تجربہ ہوا۔ ایک صاحب جو ٹینشن کی کیفیت میں مبتلا تھے وہ ایک نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ایک ہزار روپیہ خرچ کرنے کے بعد انہیں جو مشورہ ملا وہ یہ تھا کہ تم اپنے مذہب کے مطابق ، عبادت کیا کرو۔ مریض نے کہا کہ میں تو پہلے ہی سے عبادت کرتا ہوں۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ قرآن کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں (نازش اعظمی ، دہلی)
جواب
نفسیاتی ڈاکٹروں کی سوچ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ وہ مریض کو ایسی ترکیب بتائیں جو ٹینشن کو ختم کرنے والی ہو۔ میرے نزدیک یہ نظریہ بذات خود غلط ہے۔ کیوں کہ ٹینشن خود نظام فطرت کی پیدا وار ہے۔ اور جو چیز نظام فطرت کی پیدا وار ہو اس کو آپ کسی بھی تدبیر سے ختم نہیں کر سکتے۔ جو چیز فطرت میں شامل ہو اس کو قبول کرنا مسئلہ کا حل ہے، نہ کہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو کبد یا مشقت میں پیدا کیا ہے (البلد ۴) یہ ایک عام انسانی تجربہ ہے کہ زندگی مشقتوں سے خالی نہیں۔ علمی تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہوا ہے۔ روسی ماہر نفسیات نمیلُو (Nemilov) نے اپنی کتاب عورت کا المیہ (Biological Tragedy of Woman) میں بجاطور پر لکھا ہے کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ انسانی زندگی المیہ سے خالی ہو:
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues