قصور وار کون
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۱
مشقت جب خود فطرت کے قانون کے مطابق، انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے تو ہمیں اس کو مان کر اس کا حل تلاش کرنا چاہئے، نہ کہ اس کا انکار کر کے۔ برسات کے موسم میں جب بارش ہوتی ہے تو انسانی آبادیوں کے لئے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مگر کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ وہ برسات کی بارش کو روکے۔ بلکہ ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ بارش کے باوجود وہ کس طرح اپنے بچاؤ کی تدبیر کرے۔
یہی طریقہ ہم کو ٹینشن (ذہنی تناؤ) کے مسئلہ کے بارے میں اختیار کرنا ہے۔ ہم ٹینشن کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ ہم ٹینشن کو بطور واقعہ مان لیں تو یقینی طور پر ہم اپنے آپ کو اس کا شکار ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ یہی اس مسئلہ کا فطری حل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹینشن سے خالی زندگی گزارنے کے لئے واحد کامیاب فارمولا یہ ہے کہ ٹینشن کو انسانی زندگی کے ایک لازمی حصہ کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ The only successful formula for a tension-free-life is to accept the tension as an essential part of human life. سوال واقعہ یہ ہے کہ میرا مسئلہ وہی ہے جو بہت سی مسلم لڑکیوں کا مسئلہ ہے۔ اور وہ میری شادی کا مسئلہ ہے۔ میری ماں آج کل پریشانی میں ہیں ورنہ وہ خود آپ سے رابطہ قائم کرتیں۔ میرے رشتہ کے لیے بہت سے پیغامات آئے۔ ان میں سے کوئی رشتہ میرے والدین کو پسند نہ آسکا۔ میں اللہ پر بہت یقین رکھتی ہوں۔ مگر جب میں اپنے والدین کو پریشان دیکھتی ہوں تو میں اپنا اعتماد کھودیتی ہوں۔ میری عمر ۲۰ سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ میں ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہوں اور میں نے کمپیوٹر کی ٹریننگ لی ہے۔ آج کل میں ایک اسلامک ویب سائٹ پر کام کر رہی ہوں۔ میری گزارش ہے کہ آپ مجھے کچھ دعا بتائیں اور مشورہ دیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہر ایک کے نکاح کا ایک مقرر وقت ہے۔ اللہ کی رحمت سے میں اپنے کام میں کامیاب ہوں۔ (ایک پاکستانی خاتون، انٹرنیٹ سے ترجمہ)
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues