Al-Risala · February 2002 · page 22

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۲

جواب

مذکورہ قسم کا مسئلہ بہت سی مسلم لڑکیوں کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں اصل غلطی والدین کی ہے۔ والدین عام طور پر اپنی بیٹی کے لئے ایک آئیڈیل لڑکے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ تلاش اکثر برعکس نتیجہ کا سبب بنتی ہے۔ والدین اپنے جذبہ محبت کے تحت یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ دنیا میں نہ کوئی آئیڈیل لڑکا ہے اور نہ کوئی آئیڈیل لڑکی۔ ایسی حالت میں صحیح بات یہ ہے کہ آئیڈیل کو چھوڑ کر پریکٹیکل کے اصول پر عمل کیا جائے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ شادی کی کامیابی کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ والدین کو اپنی پسند کا لڑکا یا لڑکی مل جائے ۔ شادی کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں زندگی کی حقیقتوں سے آشنا ہوں اور حقائق کی بنیاد پر، نہ کہ جذبات کی بنیاد پر باہمی زندگی کی تعمیر کریں۔ ایسی حالت میں والدین کے لیے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زندگی کے عملی حقائق سے باخبر کریں۔ وہ انہیں تیار کریں کہ وہ شادی کے بعد تحمل اور دانش مندی کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں۔ اور ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہوئے زندگی کی جدوجہد کریں۔ اگر لڑکے اور لڑکی میں اس قسم کا شعور حیات موجود ہو تو یقینی طور پر وہ کامیاب زندگی حاصل کر لیں گے، خواہ شادی کے وقت بظاہر ان کی معاشی حالت زیادہ بہتر نہ ہو۔ مذکورہ قسم کی صورت میں والدین کے لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ لڑکی کی رضامندی لے کر اور اللہ کے بھروسہ پر بلا تاخیر نکاح کا معاملہ کر دیں۔ کامیاب زندگی کے معاملہ میں وہ اللہ پر بھروسہ کریں، نہ کہ اپنی سوچ اور تدبیر پر۔

سوال

نیشنل اور انٹرنیشنل مسائل میں آپ کا مثبت اپروچ بالکل درست ہے۔ ہم کو خوشی ہے کہ آپ جیسا ایک آدمی انڈیا میں موجود ہے بلکہ یہ پورے ایشیا کے لئے خوشی کی بات ہے۔ میرا شبہہ اور اندیشہ صرف یہ ہے کہ کیا مسلمان آنے والے زمانہ میں ہندوستان میں پر امن طور پر رہ سکتے ہیں۔ (عدنان کریمی، کالا ڈیرہ، مالک پیٹھ، حیدرآباد ۲۲)

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page