Al-Risala · February 2002 · page 23

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۳

جواب

مسلمان اس ملک میں تعمیری سوچ اور امن پسندی کے ساتھ رہیں گے یا نہیں، یہ اب مستقبل کا سوال نہیں۔ اس کا جواب خود حال کے اندر مل چکا ہے۔ اللہ کے فضل سے ہماری کوششوں کے نتیجہ میں اب یہاں کے مسلمان بڑی حد تک بدل چکے ہیں۔ وہ اعراض کا طریقہ اختیار کر چکے ہیں جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ فساد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ وہ مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنے کا فارمولا عملاً اپنا چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شہر اور بستی کے مسلمان تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ وہ باہر دیکھنے کا مزاج ترک کر کے وطنی مزاج کے تحت جینا سیکھ گئے ہیں، جس کے نتیجہ میں یہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات دن بدن بہتر ہو رہے ہیں۔ وہ احتجاج غیر کا طریقہ چھوڑ کر تعمیر خویش کے اصول کو اختیار کر چکے ہیں، جس کا مثبت نمونہ ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں لوگ اخبار اور میڈیا کے ذریعہ اپنی رائے بناتے ہیں۔ اور میڈیا اپنے مخصوص مزاج کے تحت زیادہ منفی واقعات کو لیتا ہے، وہ مثبت واقعات کور پورٹ نہیں کرتا۔ اس لئے اس ہونے والے واقعہ سے لوگ ابھی پوری طرح باخبر نہیں۔ مگر جلد وہ وقت آئے گا جب کہ یہ واقعہ اتنا نمایاں ہو چکا ہوگا کہ لوگ اخباروں میں چھپے بغیر اس کو جانیں گے اور ٹی وی اسکرین پر دکھائے بغیر اس کو دیکھیں گے۔

سوال

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں مسلم عوام میں بہت کم واقفیت ہے۔ اس کی کیا اہمیت ہے۔ مسلمان کے لئے اس پر عمل کرنا واجب ہے یا فرض ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس کا اطلاق کس طرح سے کیا جا سکتا ہے۔ مہربانی کر کے الرسالہ میں اس کو بتائیں۔

محجوب کے بارے میں بھی معلومات صحیح نہیں ہیں۔ آپس میں اس کو لے کر غلط فہمیاں ہیں۔ کچھ لوگوں کے ساتھ نا انصافی بھی ہو رہی ہے۔ عوام میں اس کو لے کر الجھن و تشویش ہے۔ اس ضمن میں بھی گزارش ہے کہ آپ ایک مضمون ضرور لکھیں۔ قرآن میں اس کا ذکر لوگ نہیں بتاتے لیکن کچھ علماء

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page