Al-Risala · February 2002 · page 24

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۴

نے اس کو صحیح بتایا ہے۔ کچھ نے اختلاف بھی کیا ہے (مہدی حسن، وارانسی)

جواب

مذکورہ دونوں مسئلہ کے بارے میں الرسالہ میں مضامین آچکے ہیں۔ دوسرے علماء نے بھی اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اس معاملہ میں اصل مسئلہ واقفیت کا نہیں ہے بلکہ عمل کے جذبہ کا ہے۔ موجودہ مسلمانوں میں عمل کا جذبہ نہیں، اس لئے وہ مسئلہ پیدا ہوا جس کا آپ نے ذکر کیا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعلق حکومت سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق افراد سے ہے۔ اس کی اصل یہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں دوسرے مسلمان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا مددگار بننا چاہتا ہو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو انصاف اور دیانت کی روش پر دیکھنا چاہے۔ اسی جذبہ کی مخلصانہ تعمیل کا نام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی نہیں، اس لیے ان کے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل بھی جاری نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کے لیے سچی خیر خواہی موجود ہو تو خود فطرت کے زور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل جاری ہو جائے، خواہ اس کے شرعی مسائل لوگوں کو بتائے گئے ہوں یا نہ بتائے گئے ہوں۔

محجوب پوتے کی وراثت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محجوب پوتے کو وراثت نہ دی جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ محجوبیت کی بنا پر بظاہر جو وراثتی لنک ٹوٹ رہی ہے اس کو وصیت کے ذریعہ پورا کر دیا جائے۔ اگر کسی خاندان میں آپ ایسا نہ دیکھیں تو اس کا سبب شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ لوگوں کی سرکشی ہے۔ مثلاً بہن کا حق شرعی طور پر معلوم اور مسلم ہے مگر بہت کم مسلمان ہیں جو بہن کو اس کا باقاعدہ شرعی حق دیتے ہوں۔ سوال مجھے صوفی سنتوں کے جیون چرتر پڑھنے کا شوق ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب تذکرۃ الاولیاء کا اردو میں ترجمہ جناب مولا نا قاری محمد عادل خان صاحب کا پڑھا۔ اس کتاب میں حضرت ذوالنون مصری کے حالات و مناقب میں آپ کا ایک ارشاد ہے۔ ”قلیل

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page