Al-Risala · February 2002 · page 25

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۵

کھانا جسمانی توانائی کا ذریعہ ہے اور قلیل گناہ روحانی توانائی کا ذریعہ“ (79.p) اس ارشاد میں ”قلیل کھانا جسمانی توانائی کا ذریعہ ہے“ تو سمجھ میں آگیا لیکن ”قلیل گناہ روحانی توانائی کا ذریعہ ہے“ سمجھ میں نہیں آیا۔ براہ کرم اس پر روشنی ڈالنے کی مہربانی فرمائیں۔ (رام دیو، جی ایچ ۴/۹۷۲، چھتھم وہار، نئی دہلی، ۱۱۰۰۶۳)

جواب

جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس ملفوظ میں قلیل گناہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں لمم کہا گیا ہے (النجم ۳۲) اس سے مراد گناہ کرنا نہیں ہے بلکہ گناہ ہو جانا ہے۔ گناہ کبیرہ سرکشی کے تحت ہوتا ہے اور گناہ صغیرہ بشری تقاضہ کے تحت۔ جو آدمی گناہ کبیرہ سے بچنے کا اہتمام کرے اور بشری تقاضہ کے تحت اتفاقاً کبھی گناہ صغیرہ کا مرتکب ہو جائے تو ایسا شخص قابل معافی ہے، نیز تو بہ اور احساس گناہ کی صورت میں وہ انسان کی روحانی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔

سوال

میں سوامی ویویکا نند کا پیرو ہوں۔ میں ان کی ایک کتاب آپ کو بھیج رہا ہوں۔ سوامی جی کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی سچائی کی طرف جانے کے الگ الگ راستے ہیں۔ چاہے وہ ہندو ازم ہو یا مسیحیت ہو یا اسلام ہو یا سکھ ازم ہو یا یہودیت ہو۔ میرے نزدیک اسی کا پر چار کیا جانا چاہئے تا کہ لوگوں کے اندر ایکتا پیدا ہو۔ (ڈی این ملہوترا، دلشاد گارڈن، دہلی)

جواب

وحدت ادیان کے اس تصور سے مجھے اتفاق نہیں۔ سچائی کبھی متعدد نہیں ہو سکتی۔ سچائی اگر ایک نہ ہو تو وہ سچائی نہیں۔ وحدت ادیان کے اس نظریہ کے حق میں کوئی بھی منطقی دلیل موجود نہیں۔ یہ پورا نظریہ صرف تمثیلات کے اوپر قائم ہے اور تمثیل سے کبھی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ چنانچہ کہا گیا ہے: Anology is the weakest form of Argument. سچائی کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ آدمی کو یقین عطا کرے۔ دنیا میں جینے کے لئے آدمی کو یقین کا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page