Al-Risala · February 2002 · page 26

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۶

سرمایہ درکار ہے اور سچائی آدمی کو یہی یقین دیتی ہے ۔ " میں نے سچائی کو پالیا " یہ یقین صرف کسی ایک چیز پر قائم ہو سکتا ہے ، نہ متعدد چیزوں پر۔

انسانی سماج میں ایکتا بلاشبہ ضروری ہے۔ مگر یہ ایکتا " میں بھی سچا تم بھی سچے " جیسے مصنوعی نظریے پر قائم نہیں ہو سکتی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کا حقیقی ذریعہ یہ ہے کہ اخلاقی تقاضہ کے تحت ہر ایک دوسرے کو قابلِ عزت سمجھے۔ میرے نزدیک مذہبی اتحاد کا درست فارمولا یہ ہے کہ ایک کی پیروی کرو، اور ہر ایک کی عزت کرو:

Follow one, and respect all. سوال کیا دماغی صلاحیتیں خداداد ہوتی ہیں یا کسی۔ انسانی دماغ محدود ہے یا غیر محدود۔ کیا ایک انسان تمام علوم کو اپنے ذہن میں سمیٹ سکتا ہے۔ انسانی دماغ اصلاً ہے۔ برائے مہربانی آپ اپنے مطالعہ کی روشنی میں انسانی دماغ کی کارکردگی اور صلاحیتوں کے بارے میں ہم کو مطلع فرمائیں (محمد مجاہد الدین ، سکندر آباد)

جواب

انسانی دماغ ابھی تک ایک پر اسرار حقیقت ہے۔ پانچ ہزار سال کی تحقیق کے باوجود بھی تک انسانی دماغ کے بارے میں بہت کم معلوم کیا جا سکا ہے۔ میرے تجربہ اور مطالعہ کے مطابق، انسانی دماغ لامحدود صلاحیت کا خزانہ ہے۔ یہ دماغی صلاحیت ہر انسان کو تقریباً یکساں طور پر حاصل ہوتی ہے۔ مگر تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی دماغ اپنی ابتدائی حالت میں ایک خوابیدہ صلاحیت کی مانند ہے۔ علم اور تجربہ اس صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کا نظریہ بتاتا ہے کہ دماغی صلاحیت کو جگانے میں سب سے زیادہ دخل اس چیز کا ہے جس کو ذہنی جھٹکا کہا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ اتنا زیادہ نہ ہو کہ آدمی کی شخصیت کچل کر رہ جائے۔

تاہم میرے تجربہ کے مطابق، ذہنی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page