Al-Risala · February 2002 · page 27

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۷

اعتراف کا مادہ ہو۔ وہ حقیقتوں کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھے اور بغیر کسی تحفظ کے اس کو قبول کرلے۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو اعلیٰ ذہنی ترقی کے مرتبہ پر پہنچے ہوں۔ میرے نزدیک اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ لوگ عام طور پر بند ذہن کے ساتھ جیتے ہیں۔ اس بنا پر وہ اپنے مانوس تصورات کے سوا کسی اور تصور کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کو اختیار کر پاتے ہیں۔

سوال

ہم نے بار بار پڑھا اور سنا ہے کہ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنم میں جائیں گے۔ اب عملی زندگی میں دیکھا جائے کہ ہم رشوت نہ لیں یہ تو ہمارے بس کی بات ہے مگر رشوت نہ دیں تو ہمارا جینا مشکل ہو جائے گا۔ ہمارے گھروں میں بجلی اور پانی نہیں آئے گا۔ اب اگر رشوت دیتے ہیں تو خدا کے ڈر سے دل کا سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ آپ اس سوال کا جواب تفصیل سے دیں تا کہ میرے علاوہ بہت سے لوگوں کو جانکاری ملے۔ ایسے سماج میں آخر آدمی کیسے جئے گا۔ (بشیر احمد کالو، کشمیر)

جواب

آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے وہ مختلف کتب حدیث میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي (مسند احمد، جلد ۲، صفحه ۱۶۴) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: الراشی والمرتشى كلاهما في النار (رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں آگ میں جائیں گے)

رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے کا حکم اس وقت یکساں ہے جب کہ رشوت دینے والا ایک ایسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دے، جو شرعی اعتبار سے اس کا حق نہیں۔ اسی طرح رشوت لینے والا جو اپنی خدمت کے لئے حکومت سے تنخواہ پانے کے باوجود مزید رشوت کا طالب ہو، وہ بھی اس حدیث کا مصداق ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page