Al-Risala · February 2002 · page 28

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۸

لیکن اگر کہیں ایسا ہو کہ وقت کا نظام اس طرح بگڑ جائے کہ آدمی اپنا جائز حق بھی رشوت دیے بغیر نہ پاسکے تو ایسی حالت میں اضطرار کا اصول منطبق ہوگا اور اپنا واقعی حق لینے کے لئے اس کا دینا جائز قرار پائے گا۔

سوال

کہا جاتا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں۔ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا بدعت کی یہ تقسیم درست ہے۔ اور اگر درست ہے تو ان دونوں قسموں کے درمیان کیا فرق ہے۔ تفصیل سے مستفید فرمائیں۔ (ندیم احمد سنابلی، دہلی)

جواب

عام طور پر بدعت کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ: کل ما احدث فی الدین فهو بدعة (نئی ہر چیز جو دین میں نکالی جائے وہ بدعت ہے)۔ مگر یہ تعریف پوری طرح واضح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بدعت (innovation) زندگی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ زندگی میں بار بار نیا پن لانا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا مسلسل سفر ممکن نہیں ہوتا۔

تاہم نئی چیز کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ خود دین خدا میں کوئی نئی چیز نکالنا جس کا ثبوت قرآن و سنت میں موجود نہ ہو۔ مثلا ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کرنا۔ یہ طریقہ قرآن وسنت سے ثابت نہیں۔ اس لیے اس کو غیر مطلوب بدعت قرار دیا جائے گا۔

بدعت یعنی چیز کی دوسری صورت وہ ہے، جو زمانہ کی ضرورت یا حالات کی تبدیلی کی بنا پر اختیار کی جائے مثلاً قرآن میں اعداد قوت (الأنفال ٦٠) کا حکم آیا ہے۔ اس کی تشریح حدیث میں رمی سے کی گئی ہے۔ یعنی تیر مارنا۔ مگر موجودہ زمانہ میں تمام مسلم ملکوں میں اعداد قوت کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے معنی میں لیا جاتا ہے، نہ کہ تیر کمان کی فراہمی کے معنی میں۔ یہ بظاہر ایک نئی چیز ہے مگر وہ مطلوب بدعت ہے، نہ کہ غیر مطلوب بدعت۔ اس فرق کو دوسرے لفظوں میں عبادتی بدعت اور معاملاتی بدعت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page