Al-Risala · February 2002 · page 29

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۹

ایک خط برادر محترم محمد ساجد خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲۰ جون ۲۰۰۱ء کو ٹیلی فون پر آپ سے گفتگو ہوئی۔ آپ نے ایک صاحب کا قصہ بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ الرسالہ پڑھنے والے کچھ افراد کو میں نے دیکھا، وہ بہت مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ حالانکہ میری آمدنی ان سے زیادہ ہے مگر مجھے اطمینان والی زندگی حاصل نہیں۔ یہ الرسالہ کا کرشمہ نہیں، بلکہ وہ اسلام کا کرشمہ ہے۔ قرآن کے مطابق، اسلام آدمی کو نفس مطمئن (الفجر) بناتا ہے۔ اسی نفس مطمئن کا وہ نتیجہ ہے جس کا آپ نے ذکر کیا۔ جب بھی کسی انسان کو حقیقی معنوں میں اسلام حاصل ہو جائے تو اس کے بعد یہی ہوگا کہ اس کو ایک اتھاہ اطمینان کی زندگی حاصل ہو جائے گی۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الا بذکر الله تطمئن القلوب (الرعد ۲۸)۔

موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر شاید ان میں سے کوئی بھی سرگرمی نہیں جو لوگوں کو حقیقی اسلام کا تحفہ دے رہی ہو۔ کوئی تحریک مسلمانوں کو پر اسرار کہانیاں سنا رہی ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کے اندر خوش عقیدگی کا ذہن بنتا ہے۔ کوئی تحریک حکومت واقتدار کو نشانہ بنائے ہوئے ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ کوئی تحریک غیر مسلموں کے خلاف جہاد کا نعرہ لگارہی ہے جس سے صرف نفرت کا ذہن بنتا ہے۔ کوئی تحریک ملی مسائل کا اٹھائے ہوئے ہے جس سے صرف قومی ذہن بنتا ہے۔ کوئی تحریک فقہی مسلک پر زور دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں صرف کٹڑ پن اور تفریق کا ذہن بنتا ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی ذہن حقیقی معنوں میں اسلامی ذہن نہیں۔ موجودہ مسلم تحریکوں میں مشترک طور پر یہ بات ہے کہ وہ اسلام کو اس طرح پیش کرتی ہیں جیسے کہ اس کا تعلق انسان کی حقیقی زندگی سے نہ ہو۔ ان کے مطابق، اسلام یا تو فخر کی چیز ہے یا برکت کی چیز یا شہادت کے نام پر لڑ کر مر جانے کی چیز۔ انسان کوروز مرہ کی زندگی میں جو عملی مسائل پیش آتے ہیں،

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page