Al-Risala · February 2002 · page 30

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۰

گویا کہ ان کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں، ان کے لئے اسلام میں کوئی رہنمائی نہیں۔ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسلام کی اصل اسپرٹ کو زندہ کرنا چاہتا ہے، اور جن لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ زندہ ہو جائے، ان کے لیے اسلام زندگی کا گائیڈ بن جاتا ہے، ایک ایسا گائیڈ جو زندگی کے ہر چھوٹے اور بڑے معاملہ میں اس کا قابلِ عمل رہنما ہو۔

اسلام اپنے ماننے والے انسان کے اندر اطمینانِ قلب کا جو مزاج پیدا کرتا ہے، اس کے دو خاص سبب ہیں جس کا میں یہاں ذکر کروں گا۔

ان کے اندر دو خاص صفتیں پائی جاتی ہیں۔ یہی دونوں صفتیں ان کے اندر وہ مزاج پیدا کردیتی ہیں جن کا مذکورہ صاحب نے ذکر کیا۔ ایک یہ کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک اعلیٰ مشن دیتا ہے، دعوت کا مشن۔ یہ مشن ہر قسم کی مادی چیزوں سے بلند ہے۔ جو لوگ اسلام کو اپنی زندگی میں بطورِ مقصد شامل کر لیں ان کو اسلام ایک اعلیٰ مشن کا حامل بنا دیتا ہے۔ صاحبِ مشن ہونے کا یہ احساس آدمی کو اتنا زیادہ اونچا اٹھا دیتا ہے کہ ہر دوسری چیز اس کے لئے حقیر بن جاتی ہے۔ عام لوگ دولت، عزت، شہرت، عہدہ، وغیرہ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں مگر اسلامی مشن کے حامل ایک شخص کا احساس یہ ہو جاتا ہے کہ اس کو ان تمام چیزوں سے زیادہ بڑی چیز حاصل ہے۔ ان چیزوں کا ملنا یا نہ ملنا دونوں اس کی نظر میں برابر ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے برعکس صاحبِ مشن ایسی چیز میں جیتا ہے جس میں نہ کھونے کا اندیشہ ہے اور نہ کم ہونے کا خوف۔ یہ احساس اس کو ابدی طور پر مطمئن بنا دیتا ہے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ اسلام کو بطورِ مشن لے کر اٹھنے والے شخص کی زندگی فطری طور پر سادہ اور غیر متکلفانہ ہو جاتی ہے۔ ان کے اندر دنیا کے بارہ میں قناعت کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ حرص اور حسد کا جذبہ ان کے سینہ سے نکل جاتا ہے جو تمام بے چینیوں کا اصل سبب ہے۔ صاحبِ اسلام کا مسلک یہ بن جاتا ہے اتنے کم پر راضی رہو کہ جو کچھ تم کو مل جائے وہی تم کو کافی معلوم ہو۔ یکم نومبر ۲۰۰۱ء دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page