قصور وار کون
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۱
ایک خط
برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمة اللہ ٹیلی فون پر آپ سے گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ آج رمضان ۱۴۲۲ھ کی ۲۵ تاریخ ہے۔ روزہ کے بارے میں ایک حدیث رسول میں یہ الفاظ آئے ہیں: من لم يدع قول الزور والعمل به، فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه (صحیح البخاری، کتاب الصوم)۔ یعنی جس آدمی نے روزہ رکھ کر جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پینا چھوڑ دے۔
اس حدیث میں قول زور (جھوٹ بولना) تو بالکل واضح ہے۔ مگر عمل زور (جھوٹ پر عمل کرنا) کیا ہے، یہ حدیث کی شرحوں سے واضح نہیں ہوتا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کی جدید تاریخ اس حدیث کی گویا ایک عملی تشریح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ پر عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی کا عمل اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو غیر حق پر ہو، مگر وہ جھوٹے الفاظ بول کر اس کو حق کا عمل ظاہر کرے۔ افغانستان میں ٹھیک ایسا ہی ہوا ہے۔ اور میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ عمل زور کے اس معاملہ میں وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر شریک ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے اکتوبر ۱۹۸۸ء میں افغانستان کا ایک سفر کیا تھا۔ اس کے بعد افغانستان کے بارہ میں میرے تین مضامین الرسالہ میں شائع ہوئے۔ اُن کے حوالے یہ ہیں الرساله فروری ۱۹۸۹ء، مارچ ۱۹۸۹ء، اپریل ۱۹۹۵ء۔ اگر آپ ان مضامین کو پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ میں نے وہ باتیں اللہ کی توفیق سے پیشگی طور پر لکھ دی تھیں جو اب بعد از خرابی بسیار لوگوں کو معلوم ہوئی ہیں۔ یہاں میں افغانستان کی جدید تاریخ کی روشنی میں عملی زور کی تشریح کرنا چاہتا ہوں۔ افغانستان کی طویل جنگ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف ایک قبائلی جنگ تھی۔ مگر اس کو خلاف واقعہ طور پر مقدس جہاد کا نام دیا گیا۔ روسیوں کے خلاف افغانیوں کی کامیابی امریکہ کی مدد کے ذریعہ حاصل
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues