Al-Risala · January 2002 · page 10

National Symbols that we are proud of.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۰

ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیڈروں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ انہوں نے اردو زبان اور اردو کلچر کو مشرقی پاکستان پر تھوپنا چاہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اردو زبان اور اردو کلچر تو یہاں رائج نہ ہوسکا البتہ اس کے خلاف یہاں سخت ردعمل ہوا یہاں تک کہ مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ پاکستان سے آئے ہوئے دوڈیلی گیٹ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے شیخ مجیب الرحمن کی تعریف کی۔ اس کوسن کر دوسرا شخص غصہ میں آگیا۔ اس نے کہا کہ تم ایک غدار (traitor) کی تعریف کر رہے ہو۔ حالانکہ یہی شخص ہے جس نے پاکستان کو توڑا۔ دوسرے آدمی نے جواب دیا کہ اگر شیخ مجیب الرحمن نے ہمارے ملک کو توڑا ہے تو تم نے بھی کسی کے ملک کو توڑا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنوایا ہے اسی طرح تم نے انڈیا کو توڑ کر پاکستان بنوایا ہے۔ اس پر وہ آدمی مزید غصہ ہو گیا اور یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ تم پاکستان کے دشمنوں کے ایجنٹ معلوم ہوتے ہو۔

یہ انسان کی عجیب و غریب کمزوری ہے کہ ایک ہی فعل وہ خود کرے تو اس کی برائی اس کو دکھائی نہیں دیتی مگر اسی فعل کو جب کوئی دوسرا کرے تو وہ اس کی برائی کو اس طرح دیکھ لیتا ہے جیسے کہ اس کی آنکھ پر دوربین اور خوردبین سے بھی زیادہ طاقتور آلہ لگا ہوا ہے۔ ڈھاکہ کی اس کانفرنس میں مختلف ملکوں کے لوگ آئے تھے۔ پاکستان سے بھی کئی لوگ شریک ہوئے ۔ ان میں سے ایک اعلی تعلیم یافتہ خاتون پروفیسر ڈاکٹر عالیہ امام تھیں۔ وہ بڑے سرکاری عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ وہ اسلام آباد میں رہتی ہیں۔ ان کا ٹیلی فون نمبر یہ ہے: ایک مجلس میں انہوں نے کہا کہ انڈیا میں تو اردو کا جنازہ نکل چکا ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں بالفرض اگر اردو کا جنازہ نکلا ہو تو پاکستان میں تو خود اسلام کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ لوگ اکثر ہندوستان کو اور ہندوستانی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بہت نا انصافی کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کے مسلمان پاکستان کے مسلمانوں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page