Al-Risala · February 2002 · page 33

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۳

اجلاس کے خاتمہ کے بعد مذکورہ مسلمان سے میری ملاقات کھانے کی میز پر ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جس مسلم دنیا کا ذکر آپ نے کیا، میں بھی اسی مسلم دنیا میں رہتا ہوں۔ مگر میں نے تو ایسا کوئی مسلمان نہ دیکھا اور نہ سنا جو ۱۱ ستمبر کے واقعہ پر رویا ہو۔ وہ مسکرا کر بولے، امریکہ بڑا چودھری بنتا تھا، اس کو تو سبق سکھانا ضروری تھا۔

یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ افغانستان کے معاملہ نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ عوام اور خواص دونوں اس معاملہ میں ایک جیسے ثابت ہوئے ہیں۔ جو لوگ بظاہر مختلف بات کہتے ہیں وہ بھی ٹوسٹ (twist) کر کے بولتے ہیں جس کو قرآن میں لُنَی لِسان (النساء ۴۶) کہا گیا ہے۔ ان کا یہ انداز صاف بتا دیتا ہے کہ ان کے دل میں کچھ اور ہے اور ان کی زبان پر کچھ اور۔ حافظ محمد اقبال صاحب فیروز آباد کے ایک تاجر ہیں۔ وہ اکثر سفر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ میں نے اپنے تجربہ میں پایا کہ ۱۱ ستمبر کے بعد ہر جگہ اور ہر طبقہ کے مسلمانوں نے اسامہ بن لادن کو اپنا ہیرو بنا لیا۔ میں نے پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق، اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان عروج کو صرف اپنا حق سمجھتے ہیں، وہ کسی اور کو عروج کی حالت میں دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ موجودہ مسلمانوں کی یہی نفسیات ہے جس کی بنا پر اسامہ کو مسلمانوں کے درمیان ہیرو کا درجہ مل گیا، کیوں کہ ان کے خیال کے مطابق، اسامہ نے ۱۱ ستمبر کو کم از کم علامتی طور پر، امریکہ کی عظمت کو توڑ دیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ تجزیہ بالکل درست ہے۔ مختلف اسباب سے موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک عروج پسند قوم بن گئے ہیں۔ عروج پسندی بذات خود کوئی بری چیز نہیں، لیکن جب عروج کو صرف اپنا حق سمجھ لیا جائے تو اس سے دوسروں کے بارہ میں حسد اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس ہے۔ مگر جو عروج پسندی دوسروں کے خلاف نفرت اور حسد پیدا کرے، وہ انسان کو ذلت اور ناکامی کے سوا کہیں اور پہنچانے والی نہیں۔

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page