Al-Risala · February 2002 · page 34

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۴

خبر نامہ اسلامی مرکز

نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (انیکسی) میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک پروگرام ہوا۔ یہ لیکچر سیریز کا ایک پروگرام تھا جو نگارا ٹرسٹ کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔ اس کے تحت ۱۹ مارچ ۲۰۰۱ کو ڈاکٹر جسونت سنگھ نیکی کا لکچر سکھ دھرم کے بارے میں تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے صدر جلسہ کی حیثیت سے اس میں شرکت کی۔ آخر میں انہوں نے اسلام کی روحانیت اور آفاقیت کے پہلو پر ایک تقریر کی۔

دوردرشن (دہلی) کی ٹیم نے ۲۲ مارچ ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا تعلق اس مسئلہ سے تھا کہ ۵ مارچ ۲۰۰۱ کو دہلی میں قرآن جلایا گیا اور اس کے نتیجہ میں ۱۴ مارچ ۲۰۰۱ء کو کانپور میں فساد ہوا جس میں کافی جان و مال کا نقصان ہوا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس طرح کے معاملہ میں قرآن کا حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے خبر کی تحقیق کرو، تحقیق کے بغیر کوئی رائے قائم نہ کرو۔ دوسری بات یہ کہ اگر کوئی مجرمانہ فعل ہو تو عوام کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں۔ جرم کا فیصلہ صرف ملکی قانون کے تحت باضابطہ عدالت ہی میں کیا جا سکتا ہے۔ کسی کے دل کا مجروح ہونا اس کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود سے ایسی کارروائی شروع کردے جس کے نتیجہ میں سماج تشدد کا شکار ہو جائے۔

موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں انگریزی زبان کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل بڑے پیمانہ پر انگریزی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ اس عمل کو روکا نہیں جاسکتا۔ اسلامی مرکز نے اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے انگریزی زبان میں لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ لٹریچر ہر اعتبار سے معیاری بنایا گیا ہے، تاکہ طلبہ اس کو شوق سے پڑھ سکیں۔ ان کتابوں کی فہرست بذریعہ ڈاک منگائی جاسکتی ہے۔

دہلی اور میرٹھ کے درمیان ٹیلی فون کے ذریعہ خطاب کا ایک ہفتہ وار سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ میرٹھ میں حلقہ ارسالہ کے لوگ اپنے ہفتہ وار اجتماع میں اس کو سنتے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز دہلی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page