۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۶
کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق دہشت گردی اور اسلام سے تھا۔ بتایا گیا کہ اسلام میں دہشت گردی کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام امن کا مذہب ہے، نہ کہ نفرت اور تشدد کا مذہب۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کشمیر کے بارے میں ہندوستانی مسلمانوں کی وہی پالیسی ہونی چاہئے جو حکومت ہند کی قومی پالیسی ہے۔ یہی اسلام کا تقاضا ہے۔
۱۰ یکم تا ۳ جون ۲۰۰۱ کو ڈھا کہ (بنگلہ دیش) میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور فنڈ معلوم کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
۱۱ زی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۱ جون ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ کمپیوٹر اور ویب سائٹ کا طریقہ مذہب کے لئے کتنا مفید ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یقیناً مفید ہے۔ البتہ اس کی افادیت کا انحصار استعمال کرنے والوں پر ہے، نہ کہ تکنیک پر۔
ناگپور کے انگریزی روز نامہ بہت واد (The Hitvada) کے پرنسپل کر سپائنٹ مسٹر گنیش کناتے (Ganesh Kanate) نے ۲۹ جون ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو مذکورہ اخبار کے ۳۰ جون اور یکم جولائی ۲۰۰۱ کے شماروں میں صفحہ اول پر چھپا۔ دونوں قسطوں کی سرخی بالترتیب یہ تھی :
Military ruler is a blessing for Pak. Quran needs no reforms, Muslims do. ۱۳ صدر اسلامی مرکز نے جون ۲۰۰۱ کے آخری ہفتہ میں ناگپور (مہاراشٹر) کا سفر کیا۔ وہاں ملاقاتوں کے علاوہ ۳۰ جون ۲۰۰۱ کو ایک بڑا جلسہ ہوا۔ اس جلسہ کا اہتمام انجمن حامی اسلام کی طرف سے کیا گیا تھا۔ یہ جلسہ صرف صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ شہر کے تعلیم یافتہ مسلمان بڑی تعداد میں اس میں شریک ہوئے ۔ ایک گھنٹہ کی اس تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمان اس ملک کے لئے سرمایہ (asset) ہیں، وہ اس ملک کے لئے بوجھ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues