Al-Risala · February 2002 · page 37

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۷

(liability) نہیں ہیں۔ اس بات کو ایک گھنٹہ کی تقریر میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا۔ لوگ غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے۔ اس اجتماع کو واقعہ بنانے میں خاص طور پر جناب عبد السلام اکبانی اور جسٹس ایم ایم قاضی صاحبان کا تعاون شامل تھا۔

۱۴ نئی دہلی کے روزنامہ راشریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر دودساجد نے ۸ جولائی ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہند۔ پاک چوٹی کانفرنس (۱۵-۱۶ جولائی ۲۰۰۱) سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ بین اقوامی نزاعات کا فیصلہ کبھی جنگ اور تشدد کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ جنگ صرف نقصان میں اضافہ کرتی ہے، وہ مسئلہ کو حل نہیں کرتی۔ ۱۵ جولائی ۲۰۰۱ کے آخری ہفتہ میں سوئزر لینڈ میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کے دعوت نامہ پر صدر اسلامی مرکز نے سوئزر لینڈ کا سفر کیا اور کانفرنس میں شرکت کی۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

۱۶ ہندی ہفت روزہ پانچ جنبہ (نئی دہلی) کے نمائندہ نے ۲۲ جولائی ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستان، پاکستان اور کشمیر سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ انڈیا کے مسلمان ہر اعتبار سے پاکستان کے مسلمانوں سے آگے ہیں۔ وہ ان سے زیادہ ترقی کر رہے ہیں۔

۱۷ ارنا کے نمائندہ نوید جمال نے ۱۸ اگست ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ایران نیوز ایجنسی کے لئے ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر فلسطین میں عرب۔ اسرائیل مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلم قیادت یا عرب قیادت اس مسئلہ کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قیادت اپنے عدم اتحاد کی بنا پر اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ اس مسئلہ میں کوئی موثر رول ادا کرنے کے قابل ہی نہیں۔

۱۸ سہارا ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۱ اگست ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ حج کے لئے گورنمنٹ کی سبسڈی جائز ہے یا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page