Al-Risala · February 2002 · page 38

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۸

گورنمنٹ نے پہلے حج کے ٹکٹ پر سولہ ہزار کی سبسڈی دی تھی۔ اب اس کو گھٹا کر ۱۰ ہزار روپیہ کیا جا رہا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس کو سازش کہنا بے معنی بات ہے۔ جہاں تک اس کے جائز ہونے کا سوال ہے تو یقیناً وہ جائز ہے۔ مسلم ملکوں کی سیکولر حکومت کی سبسڈی اگر جائز ہے تو انڈیا کی حکومت کی سبسڈی بھی جائز ہوگی۔

۱۹ ماہنامہ راہ اسلام (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر عالم نقوی نے ۱۸ اگست ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ہرقسم کے سوالات کے جواب دئے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ امام خمینی کا ایرانی انقلاب اول دن ہی ایک مکمل انقلاب نہ تھا بلکہ وہ ایک پراسس تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ اسلام نیوز میں آگیا۔ ۲۰ جین ٹی وی (نئی دہلی) نے ۲۹ اگست ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو نشر کیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستان کے مدارس سے تھا۔ بتایا گیا کہ مدارس مذہب اور اخلاق کی تعلیم کے ادارے ہیں۔

۲۱ سہارا ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۳۰ اگست ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ ملک میں ریلیجس انٹالرنس کیوں اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ ریلیجس انٹالرنس نہیں بلکہ وہ پولیٹیکل انٹالرنس ہے۔ مذہب تو امن اور محبت اور انسانیت سکھاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے کام کرتے ہیں اور مذہب کا نام لیتے ہیں۔

۲۲ اسپین کے شہر بارسلونا میں ۲-۴ ستمبر ۲۰۰۱ کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے صدر اسلامی مرکز کو خصوصی طور پر بلایا گیا تھا۔ انہوں نے اپنا مقالہ Peace in the Middle East کے موضوع پر تیار کر لیا تھا مگر وہ کسی وجہ سے اس میں شرکت نہ کر سکے۔ البتہ مذکورہ مقالہ کا نفرنس کے ذمہ داروں کو بھیج دیا گیا جو وہاں کے شرکاء میں تقسیم کیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page