Al-Risala · February 2002 · page 39

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۳۹

۲۳ ۱۳ ستمبر ۲۰۰۱ کو دوردرشن نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر جہاد کے مسئلہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ جہاد کا مطلب لڑائی نہیں ہے۔ جہاد کا مطلب کوشش ہے۔ کسی بھی دینی مقصد کے لئے کوشش کرنا جہاد ہے۔ جہاں تک قتال کا تعلق ہے وہ صرف دفاع کے لئے ہے اور وہ حکومت کا فعل ہے۔ حکومت بھی صرف اعلان کے ساتھ کسی قوم سے جہاد کر سکتی ہے، بلا اعلان نہیں۔

۲۴ دوردرشن کی ٹیم نے ۲۸ ستمبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا جو اسی دن شام کو ٹی وی پر دکھایا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ایس آئی ایم آئی پر پابندی لگانے کے بارہ میں تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ ان لوگوں کو عوام میں مقبولیت کیسے مل جاتی ہے جب کہ وہ انتہا پسندی کی باتیں کرتے ہیں۔ جواب میں کہا گیا کہ اس کا ذمہ دار میڈیا ہے۔ یہ لوگ بھڑکیلی باتیں کرتے ہیں اور میڈیا اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر انہیں نمایاں کرتا ہے۔ وہ اگر تعمیری باتیں کریں تو میڈیا انہیں نمایاں نہیں کرے گا۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ایسے لوگوں کو اخباری اہمیت دے دی۔ حالانکہ ان کا کوئی بھی حقیقی کردار ملک میں نہیں۔

۲۵ راشٹریہ سہارا (اردو) کے نمائندہ مسٹر ودود ساجد نے ۱۴ ستمبر ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ امریکہ اسلام دشمن ہے۔ آج بھی چھ ملین مسلمان آرام کے ساتھ امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہاں بے شمار اسلامی ادارے قائم ہیں۔ وہاں بڑی بڑی اسلامی کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ اسلامی لٹریچر سب سے زیادہ امریکہ میں فروخت ہوتا ہے۔ وہاں لوگ مسلسل اسلام قبول کر رہے ہیں۔ وہاں اسلام کے سلسلہ میں کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔

۲۶ گلوبل پیس کے دعوت نامہ کے تحت برطانیہ کا سفر ہوا۔ ۱۶ ستمبر کو دہلی سے روانگی ہوئی اور ۲۶ ستمبر ۲۰۰۱ کو واپسی ہوئی۔ اس سفر میں لندن، برمنگھم، مانچسٹر میں مختلف پروگرام اور ملاقاتیں ہوئیں۔ الرسالہ میں اس سفر نامہ کی تفصیل انشاء اللہ شائع کردی جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page