Al-Risala · February 2002 · page 40

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰

۲۷/ اکتوبر کو سندیپ ڈگل نے آؤٹ لک انڈیا ڈاٹ کام (outlookindia.com)

(ویب سائٹ) کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلام اور مسلمانوں کے بارہ میں تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا اسلام وائلنس کی تعلیم دیتا ہے۔ بتایا گیا کہ ہرگز نہیں۔ موجودہ وائلنس کے ذمہ دار مسلمانوں کے نااہل لیڈر ہیں، نہ کہ اسلام۔

۲۸ ستاپا دیب (Sutapa Deb) نے این ڈی ٹی وی کے لئے ۱۱ اکتوبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مدرسہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مدرسہ کی تعلیم کا مقصد اصلاً مذہب اسلام کی تعلیم دینا ہے۔ مدرسہ میں جو ماحول ہوتا ہے وہ اخلاق، روحانیت اور انسانیت کا ماحول ہوتا ہے۔ بعض افراد ایسے ہو سکتے ہیں جو انفرادی ذوق کی بنا پر سیاسی سرگرمیاں رکھتے ہیں۔ مگر اصولی اعتبار سے مدرسہ ایک تعمیری ادارہ ہے، نہ کہ سیاسی ادارہ۔

۲۹ ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۱ کو گورود یویدی نے دور درشن کے لئے ایک انٹرویو لیا۔ موضوع تھا'مسلمان اور لبرلزم‘۔ بتایا گیا کہ اسلام میں اعتدال پسندی ہے، موجودہ قسم کی لبرلزم نہیں۔ ۳۰ ونیتا سنگھ نے دینک جاگرن کے ہفتہ وار میگزین اُدے (Uday) کے لئے ۲۳ اکتوبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ جہاد کا اعلان اسلام کی رو سے صرف حکومت کو ہے۔ عام لوگوں کو نہیں۔ آپ کو چاہئے کہ اسلام اور مسلمان میں فرق کریں۔ مسلمانوں سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے پورے مواقع موجود ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ہوش مندی کے ساتھ اس کو استعمال کیا جائے ۔ ہندستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کے نااہل رہنما ہیں، نہ کہ ملکی حالات۔

۳۱ ۲۳ اکتوبر کو دور درشن کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ جہاد بمعنی قتال کا حق صرف حکومت کو ہے۔ مسجد کی حیثیت صرف نماز کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page