Al-Risala · February 2002 · page 41

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱

امام کی ہوتی ہے، نہ کہ مسلمانوں کا امام۔ طالبان کی پالیسی سے اسلام کے بارے میں رائے نہیں قائم کی جاسکتی۔

۳۲ سرو دھرم ایکتا مشن پانی پت کی طرف سے ۲۴ اکتوبر ۲۰۰۱ء کو کرنال میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع مذہبی ہم آہنگی تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس موضوع پر ایک تقریر کی۔ آخر میں ٹی وی اور ہندی اور انگریزی اخبارات نے انٹرویو لئے۔ ۳۳ الرساله اکیڈمی مدھیہ پردیش کی دعوت پر بھوپال کا سفر (۳۔ ۷ نومبر ۲۰۰۱ء) ہوا۔ اس موقع پر کئی پروگرام ہوئے۔ اس کا مختصر تذکرہ آئندہ سفرنامہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ ۳۴ ۷ نومبر ۲۰۰۱ء کی شام کو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر (India Habitat Centre) میں ایک پینل ڈسکشن تھا جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کا عنوان یہ تھا: The Silent Majority in the Fight Against Terrorism. صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر موجودہ زمانہ میں جو ملیٹنسی چلائی جارہی ہے اس کو گن اور بم کے ذریعہ ختم کرنا ممکن نہیں۔ یہ بم ورسز بم کا مسئلہ نہیں۔ بلکہ وہ بم ورسز آئیڈیالوجی کا مسئلہ ہے۔ اس کو ختم کرنے کے لئے ایک کاؤنٹر آئیڈیالوجی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہی کام کر رہے ہیں۔ ہم اسلام کی صحیح تعبیر پیش کر رہے ہیں جو امن اور انسانیت پر مبنی ہے۔

۳۵ ۱۲ نومبر ۲۰۰۱ء کو جامعہ ہمدرد کے کنونشن سینٹر میں ایک پروگرام ہوا۔ اس میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ایک تقریر کی جس کا عنوان تھا: اسلام میں جہاد کا تصور۔ ان کی مفصل تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ جہاد اصلا پر امن جدوجہد کا نام ہے۔ تو سیعی مفہوم میں کبھی اس کو قتال کے معنی میں بول دیا جاتا ہے۔ مگر جنگ کے لئے اصل لفظ قتال ہے، نہ کہ جہاد۔ انہوں نے ایک بات یہ کہی کہ قرآن میں مکی دور میں یہ آیت اتری: وجاهد هم به جهادا كبيراً۔ اس کے مطابق، پیغمبر اسلام نے مکہ کے تیرہ سالہ دور میں جو کچھ کیا وہ جہاد اکبر تھا، یعنی اخلاقی اصلاح اور دعوت۔ ان پر عمل کرنے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page