۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء دعاکو وحید الدین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۴۲
کے لئے اپنے آپ سے سخت مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے اس کو جہاد کبیر کہا گیا ہے۔ ۳۶ آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی (ہندی سیکشن) نے ۱۵ نومبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ریکارڈ کی۔ یہ تقریر ۲۱ نومبر کی شام کو نشر کی گئی۔ اس کا عنوان یہ تھا: بھارت کی سماجی تعمیر میں بھائی چارہ کی اہمیت۔
۳۷ وال اسٹریٹ جرنل کے کرسپانڈنٹ مسٹر جے پسٹا (Jesse Pesta) نے ۱۰ اکتوبر کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلامی سیاست اور اسلامی جہاد سے تھا۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کو بتایا گیا کہ اسلام میں سیاست کا اور جہاد کا تصور کیا ہے۔ ۳۸ ہمدرد پبلک اسکول (نئی دہلی) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ۲۴ نومبر ۲۰۰۱ کو اس کے ایک پروگرام میں شرکت کی۔ یہاں انہوں نے اسکول کے وسیع ہال میں طلبہ اور اساتذہ کے ایک اجتماع کو خطاب کیا۔ اس کا عنوان تھا: اسلامک آؤٹ لک ۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلامک آؤٹ لک دوسرے لفظوں میں پازیٹیو آؤٹ لک ہے۔ یعنی ہر حال میں مثبت انداز میں سوچنا اور مثبت طریقہ اختیار کرنا، حتیٰ کہ منفی حالات میں بھی۔ یہی زندگی کا واحد کامیاب اصول ہے۔ قرآن وسنت میں اسی طریقہ کو صبر کہا گیا ہے۔ حضرت عمر فاروق نے فرمایا: وجدنا خیر عیشنا فی الصبر یعنی بہتر زندگی کا راز صبر ہے۔
۳۹ مسٹر انت ويفل، نئی دہلی کے فری لانس جرنلسٹ نے ہندی اخبار ہندوستان، راشٹریہ سہارا، امر اجالا کے لئے ۱۰ دسمبر ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر روزہ سے تھا۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا کہ روزہ کا اصل مقصد سلف ڈسپلن کی تربیت ہے۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آج کل افطار پارٹی کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ افطار پارٹی زیادہ تر لیڈر لوگ کرتے ہیں۔ یہ افطار پارٹی دراصل سیاسی پارٹی ہوتی ہے۔ اس طرح کی افطار پارٹی کے بارے میں شریعت کا مسئلہ کیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ کوئی جائز اور ناجائز کا مسئلہ نہیں۔ یہ تو ایک موقع ہے۔ روزہ افطار کے نام پر بہت سے لوگ اکٹھا ہوتے ہیں۔ ضرورت
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues