Al-Risala · February 2002 · page 43

ایک قاری الرسالہ کا خط

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۴۳

ہے کہ اس کو اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ دوسرے لوگ اگر اس کو سیاسی بنانا چاہتے ہیں تو ہم کو چاہئے کہ ہم اس کو دعوتی بنادیں۔ اس اجتماع کو اسلام کے حق میں استعمال کریں اور اس طرح اس کو زیادہ سے زیادہ مفید بنائیں۔

ایک قاری الرسالہ کا خط

۴۰۔ قابل احترام جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمة الله خدا کرے مزاج گرامی بخیر ہو آپ نے میرے سوالات کا جواب نہیں دیا تھا۔ صرف آپ نے پوسٹ کارڈ کے ذریعہ یہ نصیحت کی کہ ”میں مطالعہ کو بڑھاؤں۔ “ آپ کی یہ نصیحت میرے لئے بہت کارگر ثابت ہوئی۔ میں نے از سر نو مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ آپ کے بارے میں میرے تمام اشکالات ختم ہو گئے۔ اور اب میں آپ سے صد فی صدا تفاق رکھتا ہوں۔

میں نے ۳ مارچ ۲۰۰۰ء کو آپ کی کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘ خریدی تھی۔ اپریل ۲۰۰۰ میں اس کا مطالعہ کیا۔ پھر مزید کتابیں منگاتا رہا اور پڑھتا رہا۔ اپنے سابقہ ذہن کے تحت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ آپ بس ایک بات کو بار بار دہراتے ہیں جس کو ہماری زبان میں ’’گھسی پٹی باتیں‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ کے اوپر مجھے شبہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے آپ کے خلاف ایک کتاب ’’وحیدالدین خاں علماء اور دانشوروں کی نظر میں‘‘ (مرتب ڈاکٹر محسن عثمانی) پڑھی۔ تب آپ مجھے اور غلط نظر آنے لگے، جیسا کہ آپ کو میرے ماضی کے خطوط کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہوگا۔ اب آگے سنیے پھر کیا ہوا؟ وہی آپ کا جواب ’’اپنے مطالعہ کو بڑھائیں‘‘ دوبارہ موصول ہوا۔ میں شدید الجھن میں پھنس گیا اور سوچنے لگا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ مجھ کو ایک ہی جواب بار بار دے رہے ہیں۔ میں نے اب آپ کی باتوں کا پریکٹیکل کر کے دیکھنا شروع کیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں بہت بڑے گناہ میں مبتلا تھا۔ مثلاً میں نے علماء دین کی تقریریں سننا شروع کیں تو معلوم ہوا کہ وہ صرف نفرت

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page