ایک قاری الرسالہ کا خط
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۴۴
انسان کے علاوہ کچھ نہیں تھیں۔ مسلم اخبارات کے مطالعہ سے بھی ایسا ہی محسوس ہوا۔ پھر میں نے دیگر علماء دین کی تحریریں پڑھنا شروع کیں تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ کسی تحریر میں مسئلہ مسائل کو ہی دین کہا گیا ہے، کسی کتاب میں یہود و نصاریٰ کو اسلام کا دشمن بتایا گیا ہے۔ غرض کہ دوسروں کی ہر تحریر ایسی ملی جس کو عام انسان پڑھ کر کچھ نہ پاسکے۔ یعنی موجودہ زمانے کا انسان۔ پھر میں نے آپ کی کتابوں اور دوسرے علماء کی کتابوں کا تقابل کر کے دیکھا۔ ہر پہلو سے مجھے آپ کی بات صد فی صد درست لگی۔ جہاں تک الرسالہ پڑھنے کا تعلق ہے تو مجھے کسی بھی آدمی نے الرسالہ پڑھنے کی ترغیب نہیں دی تھی۔ یہ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ کرم ہے کہ اس نے مجھے سچی باتوں سے آگاہ کیا۔ میں نے مزید یہ کیا کہ آپ کے بارے میں دار العلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے فتویٰ منگایا۔ اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ الرسالہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ میں نے مختلف لوگوں سے مشورہ لینا شروع کیا۔ پہلی بار میں نے جولائی ۲۰۰۰ کا الرسالہ خریدا۔ پھر ۲۰۰۱ء میں ایجنٹ سے لینے لگا۔ اور اب میں الرسالہ کا سالانہ ممبر (9837.U.S) بن گیا ہوں ۔ چند ماہ بعد ایجنسی بھی لوں گا، انشاء اللہ۔ وقت کا پہیہ دھیرے دھیرے گھومتا رہا۔ اور مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ میں دعوت والا کام شروع کروں۔ اور اب میں اپنے دوستوں اور دیگر لوگوں میں الرسالہ اور آپ کی تصنیفات تقسیم کرنے لگا۔ بہت سارے دوست آپ کی تحریریں پڑھ کر بہت خوش ہوئے ۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے ہیں، جس کا مجھے شدید افسوس ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں میں آپ سے مدد چاہتا ہوں۔ آپ مجھے کچھ نصیحت ضرور کریں تاکہ میں یہ کام اچھی طرح انجام دے سکوں۔ میرا ایک دوست آپ سے ایک سوال کر رہا ہے آپ اپنی روزانہ کی زندگی (daily life) کے بارے میں بتائیں کہ آپ صبح سے سونے تک کیا کیا کرتے ہیں؟ (گستاخی کے لئے معافی چاہتا ہوں)
مجھے میرٹھ کے جناب محمد شہزاد علی خان صاحب نے خط کے ذریعہ یہ اطلاع دی کہ یکم اکتوبر ۲۰۰۱ کو وہ اور ان کے ساتھی محمد ساجد خان آپ سے ملے۔ گفتگو کے دوران میرا بھی تذکرہ ہوا۔ جس سے آپ خوش ہوئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues