What ever miss T eats turns into miss T.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
سدرشن جی نے میری بات کے وزن کو تسلیم کیا اور کہا کہ اب ہم اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں۔ ہم نے ریجنل بنیاد پر بہت سے کام شروع کر دیے ہیں اور اس میں ہمیں کامیابی کی پوری اُمید ہے۔ غالباً ان حضرات کا یہ خیال ہے کہ علاقائی سطح پر کام کر کے لوگوں کے ذہن کو ہموار کیا جائے اور اِس کے بعد مرکزی اقتدار تک پہنچا جائے۔ اُن کے جدید فارمولا کو شاید اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ نئی دہلی کا وہ راستہ زیادہ قریب ہے جو گاؤں سے ہو کر جاتا ہے۔
حیدرآباد کے اس سیمینار کا عنوان یہ تھا: انڈیا نائزیشن آف ایجوکیشن (Indianisation of Education)، یعنی تعلیم کو بھارتیہ بنانا۔ اس سلسلہ میں پروفیسر جے۔ ایس۔ راجپوت (J.S. Rajput) نے مجھے ایک انگریزی کتابچہ دیا۔ یہ کتابچہ ۸۶ صفحات پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر راجپوت کا دفتر نئی دہلی میں ہے۔ (Tel.: 6519154, 6964712)
اس کتابچہ میں سپریم کورٹ کا وہ مشہور فیصلہ مکمل طور پر شائع کیا گیا تھا جو ۱۲ ستمبر ۲۰۰۲ کو دیا گیا۔ سیمینار کے منتظمین کے نزدیک سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان کے نظریہ (انڈیا نائزیشن آف ایجوکیشن) کی تائید کرتا ہے۔ میں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو مکمل طور پر پڑھا۔ اس کے بعد میں نے حیدرآباد کے سیمینار کے ایک ذمہ دار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آپ لوگوں کے نظریہ کی تائید نہیں کرتا۔
میں نے کہا کہ آپ اپنے نظریہ کو انڈیا نائزیشن آف ایجوکیشن کہتے ہیں۔ جب کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں یہ لفظ سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس فیصلہ میں جس چیز کی ضرورت بتائی گئی ہے وہ اسکول کی تعلیم کے نصاب میں مشترک اخلاقی قدروں کو شامل کرنا ہے، نہ کہ تعلیم کا انڈیا نائزیشن یا بھارتیہ کرن۔ میں نے کہا کہ آپ اس فیصلہ کو دوبارہ پڑھیے اور دیکھیے کہ اُس کا ریشیو آف دی جیمینٹ (ratio of the judgement) کیا ہے۔ اُس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ اس فیصلہ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ کسی خاص مذہب یا تہذیب کو نصاب میں شامل کیا جائے۔ اس فیصلہ کا مقصد صرف یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں جو مشترک اخلاقی تعلیمات موجود ہیں اُن کو اسکول کے نصاب میں داخل کیا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues