Al-Risala · March 2003 · page

What ever miss T eats turns into miss T.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

جائے۔ یہ کام سیکولر انداز میں ہونا چاہیۓ، نہ کہ مذہبی انداز میں۔ فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سیکولرزم ہمارے دستور کی بنیاد ہے:

Secularism is the basic structure of the Indian constitution. (p. 52)

ایک تعلیم یافتہ ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ لوگ خدا اور روحانیت کی بات کرتے ہیں لیکن آج کا ایک انسان جس کے پاس پیسہ ہے اور جس کو مادی سہولتیں حاصل ہیں وہ کہتا ہے کہ ہم کو خدا اور روحانیت کی کیا ضرورت۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کچھ ہم کو اس کے بغیر ملا ہوا ہے۔ پھر کیوں خدا اور روحانیت جیسی چیزوں میں اپنے دماغ کو الجھائیں۔

میں نے کہا کہ آپ کو جو چیز ملی ہوئی ہے وہ کیا ہے۔ وہ صرف وہ چیزیں ہیں جو آپ کے جسم کو آرام دے سکیں ۔ مگر یہ تو زندگی کی حیوانی سطح ہے۔ کوئی بھی حیوان اس قسم کی زندگی حاصل کر سکتا ہے۔ انسان کی اصل عظمت یہ ہے کہ وہ دماغ رکھتا ہے۔ جسم تو صرف اس دماغ کی سواری ہے۔ انسان کی اصل ترقی اس میں ہے کہ اُس کا دماغ ترقی کرے ۔ اگر جسم فربہ ہوجائے اور دماغی سطح پر کوئی ترقی نہ ہو تو ایسی ترقی کی کوئی قیمت نہیں۔ خدا اور روحانیت کا راستہ اسی دماغی ترقی کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ مخصوص تعلیم اور ٹریننگ کے ذریعہ دماغ کے ایک حصہ کو ترقی یافتہ بنا لیتے ہیں۔ یہ دماغ کا پروفیشنل حصہ ہے۔ ایسے لوگ پروفیشنل اعتبار سے ذہین معلوم ہوتے ہیں۔ مگر دماغ کے دوسرے فکری پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بالکل غیر ترقی یافتہ حالت میں پڑے رہتے ہیں۔

ایک سابق وائس چانسلر سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ انڈیا کے مسائل کی اصل جڑ تعلیمی پچھڑاپن ہے۔ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ملک کی پوری آبادی کو تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ اس کے بعد ہی یہاں کے مسائل ختم ہوں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ صرف تعلیم کافی نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ افراد بھی کتنے زیادہ غلط کام کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page