What ever miss T eats turns into miss T.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
میں نے کہا کہ جب میں تعلیم کو بنیادی اہمیت کی چیز بتاتا ہوں تو میں تعلیم کے بالواسطہ فائدوں کو شامل کر کے ایسا کہتا ہوں۔ آپ جیسے لوگ صرف تعلیم کے رسمی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ حالانکہ تعلیم کے بہت سے اضافی پہلو ہیں۔
میں نے کہا کہ تعلیم کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اُس کے ذریعہ آدمی جاب کے قابل بنتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا فائدہ یہ ہے کہ تعلیم آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تعلیم آپ جیسے مصلحین اور نوجوانوں کے درمیان ذہنی بُعد (intellectual gap) کو ختم کرتی ہے۔ آپ جیسے رہنماؤں کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کی قابل فہم زبان میں اُن سے کلام کر سکیں۔
کچھ اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انسان کی ایک عام کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف کی بات کو صحیح شکل میں رپورٹ نہیں کرتا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۷۴۷ سے پہلے لارڈ ٹی۔ بی میکالے (وفات ۱۸۵۹) نے غیر منقسم ہندوستان میں انگریزی تعلیم کے بارے میں اپنا مشہور خاکہ پیش کیا جس کو اُس وقت کی برطانی حکومت نے منظور کر کے اُسے ملک میں جاری کیا۔ لارڈ میکالے کے اس خاکہ کے بارے میں اپنی نوجوانی کی عمر میں میں صرف یہ جانتا تھا کہ اُس کا مقصد ایک ایسی قوم بنانا ہے جو پیدائش کے اعتبار سے انڈین اور خیالات کے اعتبار سے انگلش ہو۔ اُس وقت کے لیڈر یہی بات لکھتے اور بولتے تھے۔ مگر بعد کو جب میں پختگی کی عمر کو پہنچا تو میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ انگریزی تعلیم کا یہی وہ نظام تھا جس سے ملک کے تمام اعلیٰ افراد پیدا ہوئے ــــ سوامی وویکانند، آروندو، ٹیگور، ڈاکٹر رمن، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، جے پرکاش نرائن، راجیندر پرشاد، رادھا کرشنن، راج گوپال اچاری، ڈاکٹر ذاکر حسین، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے برعکس آزادی کے بعد ہماری قومی حکومت نے جو تعلیمی نظام ملک میں رائج کیا اُس سے مذکورہ قسم کی شاید کوئی ایک بھی اعلیٰ شخصیت پیدا نہ ہوسکی۔
اس کے بعد جب میں نے اس معاملہ کا از سر نو مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ لارڈ میکالے کی ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues