What ever miss T eats turns into miss T.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
تقریر کے ایک جملہ کو لے کر مذکورہ بات پھیلائی گئی۔ جب کہ انگریزی تعلیم کے منصوبہ کا اصل مقصد یہ تھا کہ ملک کے نوجوانوں کو جدید علوم اور جدید معیار کے مطابق تعلیم یافتہ بنایا جائے اور ماڈرن ایجوکیشن کو ملک میں عام کیا جائے۔
وائس آف امریکہ کے ایک نشریہ میں ایک بار میں نے سُنا کہ امریکہ میں ہندوستان کے لوگ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں میں زیادہ کامیاب کیوں ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ وہ انگریزی زبان بہت اچھی جانتے ہیں:
They speak very good English, and this is their advantage. یہ طریقہ آج بھی ہمارے یہاں رائج ہے۔ صحیح انداز یہ ہے کہ جب بھی کسی کی بات کو پیش کیا جائے تو اْس کو ٹھیک ویسا ہی پیش کیا جائے جیسا کہ وہ ہے۔ اس کے بغیر لوگوں کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ پیدا نہیں ہو سکتی جو ملکی تعمیر کے لیے بے حد ضروری ہے۔
ہندوؤں کی ایک مجلس میں میں نے اسلامی تعلیمات کا تعارف پیش کیا۔ لوگوں نے بہت غور سے سُنا۔ آخر میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ اسلام کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کے لیے سہی سوئکار یہ ہو جائے۔ یعنی اسلام کو ماننا اُن کے لیے آسان ہو جائے۔ ۷ دسمبر ۲۰۰۲ کی شام کو وہ سیمینار تھا جس میں شرکت کے لیے میرا یہ سفر ہوا۔ اس سیمینار کا موضوع انڈیانائزیشن آف ایجوکیشن تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں ایک بنیادی بات کہی۔ وہ یہ کہ ہمارا ملک جس مسئلہ سے دوچار ہے وہ اسکول ایجوکیشن کے انڈیا نائیزیشن سے حل ہونے والا نہیں۔ اُس کے لیے زیادہ وسیع پیمانہ پر مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ ہمیں تمام وسائلِ ابلاغ کو استعمال کر کے ملک میں ایک فکری اور اخلاقی انقلاب لانا ہوگا۔ اُس کے بعد ہی ہمارا مطلوب مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔ ۷ دسمبر کی شام کے سیمینار میں ہونے والی میری تقریر کی رپورٹ مختلف اخبارات میں چھپی۔ حیدر آباد کے اُردو روزنامہ منصف (۱۲ دسمبر ۲۰۰۲) میں یہ رپورٹ اس عنوان کے ساتھ شائع ہوئی مولانا وحید الدین خاں کے ساتھ ایک شام ۔ اس رپورٹ کا کچھ حصہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues