What ever miss T eats turns into miss T.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
یہاں نقل کیا جاتا ہے:
”عید کے دوسرے دن، ادارہ ادبیات اردو کے ایک صاحب عبدالنعیم نے دعوت نامہ پیش کیا کہ مولانا وحید الدین خاں کا لکچر ہے اور آپ کا چلنا ضروری ہے۔ یہ وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی آندھرا پردیش کی جانب سے مختلف مذاہب کے مفکرین کا سیمینار تھا۔ جس کا مقصد قومی یکجہتی اور ترقی تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی پہنچے تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔ سرمئی اجالے میں وسیع سبزہ زار پر اسٹیج و کرسیوں کا انتظام تھا۔ تیز روشنی میں سیکورٹی کا غیر معمولی اہتمام کیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل مرلی منوہر جوشی اور آرایس ایس کے سرسپرنچا لک سدرشن جی بھی تشریف لا رہے ہیں۔ جب ہم پہنچے تو اسٹیج پر تین چار حضرات موجود تھے اور سیمینار کے پہلے مقرر ڈاکٹر ڈیؤڈ فرا لے (David Frawlay) انگریزی میں ویدک نالج دے رہے تھے۔ انہوں نے ہندو دھرم کی خصوصیات پر روشنی ڈالی اور تالیوں کی گونج میں اپنی کرسی پر دوبارہ بیٹھ گئے۔ دوسرے مقرر مولانا وحید الدین خاں تھے جنہوں نے ناسازیٔ مزاج کی بنا پر مختصر خطاب کیا لیکن لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔
مولانا وحید الدین خاں نے انگریزی میں بولتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان بہتر کیوں ہے۔ مذہبی آزادی اور روحانی ماحول کی وجہ سے ہندوستان، ساری دنیا میں اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔ یہ صوفیوں اور سنتوں کا ملک رہا ہے۔ موجودہ حالات کی روشنی میں انہوں نے یہاں کے لوگوں کو آپسی رواداری برتنے اور ایک دوسرے کا لازمی احترام کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے حالات حاضرہ کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں انہوں نے اسمعیل میرٹھی کی ایک نظم ”گائے“ پڑھی تھی جو گھاس کھا کر دودھ پیدا کرتی ہے۔ اس کا ایک شعر یہ تھا: کل جو گھاس چری تھی بن میں دودھ بنی وہ گائے کے تھن میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues