Al-Risala · March 2003 · page

Conversions—Issues and Need for legislation

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

گائے تمام لوگوں کے لیے قدرت کا یہ پیغام ہے کہ نان ملک کو ملک میں تبدیل کرو۔ منفی جذبات کا جواب مثبت انداز میں دو۔ دنیا کے مختلف ممالک مادی، فوجی اور دیگر طاقتیں رکھتے ہیں مگر ہندوستان روحانی سپر پاور کی حیثیت سے اپنا منفرد مقام رکھتا ہے۔ مولانا وحید الدین خاں نے سیمینار سننے والے ننانوے فیصد ہندو بھائیوں اور بہنوں کو بتایا کہ میں مسلمان ہونے کے ناطے ’’میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے‘‘ پر عقیدہ رکھتا ہوں۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو روحانی طور پر ساری دنیا کی قیادت کرے، تشدد کے ذریعہ نہیں بلکہ امن و یکجہتی کے ذریعہ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان ہمیشہ سپر پاور رہا ہے، روحانی طور پر نہ کہ سیاسی طور پر۔ (صفحہ ۴) میری تقریر کے بعد سدرشن جی کی تقریر تھی۔ میری طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ چنانچہ میں اُن کی تقریر کے درمیان ہی اُٹھ گیا۔ اسٹیج سے اتر کر میں نیچے پہنچا تھا کہ سدرشن جی اپنی تقریر کو روک کر آئے اور مجھے رخصت کیا۔

حیدر آباد سے ایک انگریزی ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام بھارتیہ پرجنا (Bharatiya Pragana) ہے۔ اس کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۲ دیکھا۔ اُس کے صفحہ ۵۸ پر ایک رپورٹ درج تھی۔ حیدر آباد میں ۱۸ نومبر ۲۰۰۲ کو کنورژن پر ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ہوئی جس میں ہندو اور کرسچین شریک ہوئے۔ یہ رپورٹ اسی سے متعلق تھی۔ اُس کا عنوان یہ تھا:

Conversions—Issues and Need for legislation

رپورٹ کے مطابق، ہندو اسپیکروں نے کنورژن (تبدیلی مذہب) کو مکمل طور پر کنڈم کیا اور اس پر زور دیا کہ سارے ملک میں کنورژن پر بَین لگانے کے لیے قانون بننا چاہئے۔ بھارتیہ پرجنا کے شمارہ جنوری ۲۰۰۳ میں مذکورہ سیمینار کی رپورٹ بھی شائع ہوئی ہے۔

ایک ہندو سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کنورژن پر پابندی لگائی جائے یا نہ لگائی جائے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ مگر ایک بات میری فہم سے بالا تر ہے۔ ایک طرف تمام ہندو دانشور یہ کہتے ہیں کہ ہر مذہب سچا ہے۔ ہر مذہب نجات کی طرف لے جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اُن کا یہ کہنا ہے کہ ہم

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page