Al-Risala · March 2003 · page

Conversions—Issues and Need for legislation

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

اپنے سوا دوسرے مذہبوں کو صرف ٹالریٹ نہیں کرتے بلکہ اُن کو ایکسیپٹ (accept) کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہی لوگ شدت سے کنورژن کے مخالف ہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جب آپ لوگ ہر مذہب کو سچا مانتے ہیں تو ایسی حالت میں کنورژن کا مطلب صرف یہ ہے کہ آدمی سچائی اے کو چھوڑ کر سچائی بی میں چلا گیا۔ خود آپ کے نظریہ کے مطابق، یہ کوئی برائی نہیں۔ پھر اس کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت۔

۷ دسمبر کی رات منوہر ہوٹل میں گزری۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے میڈیٹیشن (meditation) پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کچھ سوامی لوگوں کا ذکر کیا جو اُن کے الفاظ میں، اسٹریس (stress) کو ڈی اسٹریس کرنے کا آرٹ جانتے ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنی تناؤ کو دور کر کے لوگوں کو شانتی بانٹ رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ میں ایسے کچھ سوامی لوگوں سے ملا ہوں اور اس آرٹ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ جو آدمی ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو اُس کو میڈیٹیشن کے مخصوص کورس سے گزارتے ہیں۔ اس کورس کا مقصد تناؤ کو سپریس (suppress) کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اُس کو ختم کرنا۔ جن لوگوں نے یہ کورس کیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ چند گھنٹے کے لیے جب کہ وہ اس کورس میں ہوتے ہیں، بظاہر اُن کا ذہنی تناؤ دور ہو جاتا ہے۔ مگر جب وہ اس کورس سے نکل کر اپنی زندگی میں واپس آتے ہیں تو تناؤ کی وہی کیفیت دوبارہ لوٹ آتی ہے۔

میں نے کہا کہ اسٹریس کو دور کرنے کا یہ طریقہ مسئلہ کا علاج نہیں بلکہ وہ پین کلر گولی کے مانند ہے جو وقتی طور پر درد کو دبا دیتی ہے اور اُس کے بعد درد بدستور اُ بھر آتا ہے یا اُس کو ایک ذہنی تحذیر (intellectual anesthesia) کہا جاسکتا ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا کوئی طریقہ ہو جو فکری عمل کو مستقل طور پر روک کرتاؤ کو دور کر سکے تو وہ انسان کو باشعور انسان کی سطح سے اتار کر بے شعور اینمل کی سطح پر لانا ہوگا۔ یہ ڈی ہیومنائزنگ (de-humanising) ہوگا، نہ کہ ڈی اسٹریسنگ (de-stressing)۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page