Conversions—Issues and Need for legislation
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
میں نے کہا کہ ذہنی تناؤ کوئی برائی نہیں۔ وہ ذہنی ترقی کا ذریعہ ہے۔ تاریخ میں تمام بڑے بڑے کام اُنہی لوگوں نے کیے ہیں جو ذہنی تناؤ کا شکار ہوئے۔ وہ لوگ جن کی پوری زندگی سکون و عافیت میں گذری انہوں نے کبھی کوئی تخلیقی کام نہیں کیا۔ کسی پُر سکون ذہن نے کبھی کوئی سائنسی دریافت نہیں کی۔ کسی پُر عافیت آدمی نے کبھی کوئی تخلیقی کتاب نہیں لکھی۔ ایک مجلس میں میں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ حال میں دہلی کے شری پال جین (2215617 ,2248920 :.Tel) مجھ سے ملنے کے لئے میرے آفس میں آئے۔ وہ اپائنٹمنٹ کے بغیر اچانک آگئے تھے۔ اس وقت میں ایک ضروری کام میں مصروف تھا۔ مجبوراً کام چھوڑ کر اُن سے ملنے کے لیے ملاقات کے کمرہ میں جانا پڑا۔ جب ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اہنسا پر یا سماج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ اس کے تحت وہ مہاشکتی اہنسا ٹائمس چھاپنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے آپ کا ایک آرٹیکل چاہئے۔ آج کل ہنسا بہت بڑھ گئی ہے۔ آپ ہمیں ہنسا کے خلاف ایک آرٹیکل دیجئے۔ میں نے کہا کہ میرا آرٹیکل آپ کو سوٹ نہیں کرے گا۔ اس لئے کہ میں اس میں لکھوں گا کہ اہنسا وادی بھی ہنسا کرتے ہیں۔ میرے نزدیک ہنسا صرف گولی یا بم مارنے کا نام نہیں ہے۔ ہنسا وہ بھی ہے جو اس وقت آپ نے کیا۔ میں نے کہا کہ اپائنٹمنٹ کے بغیر کسی کے یہاں جانا اس کو ڈسٹرب کرنا ہے۔ اور ڈسٹرب کرنا بھی ایک قسم کی ہنسا ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں صرف دو اہنسا وادی پیدا ہوئے ہیں— مہاتما گاندھی اور اس کے بعد یہ آدمی جو اس وقت آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا طریقہ یہ ہے کہ میں پوری طرح ایک نو پرابلم انسان بن کر رہتا ہوں، حتیٰ کہ خود اپنے گھر میں بھی۔ باہر کے سفروں میں لوگ مجھے اپنے گھر ٹھہراتے ہیں تو میں کبھی کسی چیز کی فرمائش نہیں کرتا۔ چائے کی ایک پیالی بھی ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ نہیں رکھتا۔ کبھی زور سے نہیں بولتا، کبھی خود سے نہ لائٹ جلاتا ہوں اور نہ اے۔ سی چلاتا۔ میں نے کہا کہ ہنسا صرف یہ نہیں ہے کہ آپ کسی کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچائیں۔ ذہنی اور روحانی تکلیف پہنچانا بھی ہنسا ہے۔ کسی کے لئے غیر ضروری طور پر مسئلہ پیدا کرنا بھی ہنسا ہے۔ کسی کو غلط
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues